مسئلہ:
اگر زمین بہت نرم ہو، یا اس میں نمی ہو، اور قبر گرنے کا خطرہ ہو، تو بوجہ ضرورت میت کو تابوت یعنی صندوق میں رکھ کر دفن کرنے کی گنجایش ہے، البتہ لوہے کے تابوت سے حتی الامکان احتراز لازم ہے، اور ہر قسم کے تابوت میں بہتر یہ ہے کہ اس میں نیچے کے حصے میں مٹی بچھادی جائے، اور میت کے دونوں طرف کچی اینٹیں لگادی جائیں، اور ڈھکنے کے اندر کی طرف والے حصے کو مٹی سے لیپ دیا جائے، تاکہ یہ تابوت لحدی قبر کی مانند ہوجائے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : ولا بأس باتخاذ تابوت ولو من حجر أو حدید له عند الحاجة کرخاوة الأرض ۔ تنویر مع الدر ۔ وفي الشامیة: قوله: (ولا بأس باتخاذ تابوت الخ) أي یرخص ذلک عند الحاجة، وإلا کره کما قدمناه آنفًا، قال في الحلیة: نقل غیر واحد عن الإمام ابن الفضل أنه جوّزه في أراضیهم لرخاوتها وقال: لکن ینبغي أن یفرش فیه التراب وتطین الطبقة العلیا مما یلي المیت، ویجعل اللبن الخفیف علی یمین المیت ویساره لیصیر بمنزلة اللحد۔
(۱۴۰/۳، باب صلاة الجنازة، مطلب في الدفن، البحر الرائق:۳۴۰/۲، کتاب الجنائز، فصل السلطان أحق بصلوته، حلبي کبیر:ص/۵۹۵۔۵۹۶، فصل في الجنائز، السادس في الدفن، تبیین الحقائق:۵۸۵/۱، باب الجنائز، فصل السلطان أحق بصلوته)
(احسن الفتاویٰ: ۱۹۸/۴، خیر الفتاویٰ: ۱۶۶/۳)
