مسئلہ:
بعض علاقوں میں کسی کے انتقال کرجانے پر اس کے گھر والے ایک لاکھ مرتبہ کلمہٴ طیبہ کا ختم کراکے ایصالِ ثواب کرتے ہیں، اور کلمہٴ طیبہ پڑھنے والوں کو ختم کے بعد کھانا کھلاتے ہیں، کلمہٴ طیبہ وغیرہ پڑھ کر میت کو ثواب پہنچانا یقیناً مفید اور باعث خیر ہے(۱)، لیکن ختم کے بعد کھانا کھلانا یہ اجرت کے مشابہ ہے(۲) ، نیز میت کے ورثاء میں بعض دفعہ چھوٹے نابالغ بچے بھی ہوتے ہیں، توان کے مال میں تصرف کرنا اور ان کے حصے سے صدقہ دینا بھی جائز نہیں ہے۔(۳)
علاوہ ازیں ایصالِ ثواب کیلئے جو کھانا کھلایا جاتا ہے، اس کے مستحق غرباء ہیں، مالدار نہیں(۴) ، جبکہ ختم کے بعد جو کھانا کھلایا جاتا ہے اس میں غریب وغنی سب ہوتے ہیں، اور اس میں شہرت وناموری کا جذبہ بھی کارفرما ہوتا ہے(۵)، جیسا کہ دیگر تقریبات کا حال ہے، اس لیے اس طریقہ پر ایصال ثواب سے اجتناب ضروری ہے(۶)، البتہ انفرادی طور پر قرآن کریم ، کلمہٴ طیبہ وغیرہ پڑھ کر ایصالِ ثواب کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح “ : فللإنسان أن یجعل ثواب عمله لغیره عند أهل السنة والجماعة ، صلاة کان أو صوماً أو حجاً أو صدقة أو قراء ة للقرآن أو الأذکار أو غیر ذلک من أنواع البر ، ویصل ذلک إلی المیت وینفعه ۔
(ص/۶۲۱ ، ۶۲۲ ، فصل فی زیارة القبور ، الشامیة :۱۰/۴ ، مطلب فی إهداء ثواب الأعمال للغیر ، البحر الرائق : ۱۰۵/۳، باب الحج عن الغیر)
(۲) ما فی ” الشامیة “ : لا معنی لصلة القاری بقراءته ، لأن هذا بمنزلة الأجرة والإجارة فی ذلک باطلة وهی بدعة ، ولم یفعلها أحد من الخلفاء ۔
(۶۷/۹، مطلب تحریم مهم فی عدم جواز الإستئجار علی التلاوة)
(۳) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿الذین یأکلون أموال الیتامیٰ ظلمًا إنما یأکلون فی بطونهم نارًا﴾ ۔ (سورة النساء : ۱۰)
ما فی ” أحکام القرآن للجصاص “ : لا خلاف بین المسلمین أن أکل مال الیتیم ظلمًا محظور وأن الوعید المذکور فی الآیة قائم فیه ۔ (۹۴/۲)
(۴) ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : والوصیة المطلقة ۔۔۔۔۔۔۔ لا تحل لغني لأنها صدقة وهي علی الغنی حرام ۔ (۳۳۶/۱۰ ، قبیل باب الوصیة)
(۵) ما فی ” الحدیث النبوی “ : عن أبي هریرة قال : قال رسول الله ﷺ : ” المتباریان لا یجابان ولا یوٴکل طعامهما “ ۔ قال الإمام أحمد : یعني المتعارضین بالضیافة فخرًا وریاءً ۔(مشکوٰة المصابیح :ص/۲۷۹ ، باب الولیمة)
(۶) ما فی ” حلبی کبیر “ : ویکره إتخاذ الضیافة من أهل المیت لأنه شرع فی السرور لا فی الحزن ، قالوا : وهی بدعة مستقبحة لما روی الإمام أحمد وابن ماجة بإسناد صحیح عن جریر بن عبد الله قال : کنا نعد الإجتماع إلی أهل المیت وصنعهم الطعام من النیاحة ۔
(ص/۶۰۹، فصل فی الجنائز، الثامن فی مسائل من الجنائز، الفتاوی البزازیة علی هامش الهندیة: ۷۸/۱، الباب الخامس والعشرون فی الجنائز، الشامیة: ۱۳۸/۳، باب صلاة الجنازة، مطلب فی کراهة الضیافة من أهل البیت)
(فتاوی محمودیه :۸۱/۳)
