مسئلہ:
شوہر اپنی میت بیوی کے پاس بیٹھ کر تلاوت کرسکتا ہے، اور چہرہ بھی دیکھ سکتا ہے، نیز محارم کے ساتھ قبر میں اُتر کر دفن کرنے میں مدد بھی کرسکتا ہے، البتہ اس کے لیے غسل دینا اور چھونا درست نہیں ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ویمنع زوجها من غسلها ومسّها لا من النظر إلیها علی الأصح ۔ منیة ۔ در مختار ۔ وفي الشامیة: ولعلّ وجهه أن النظر أخفّ من المسّ فجاز لشبهة الاختلاف۔ (۹۰/۳، باب صلاة الجنازة، قبیل مطلب : في حدیث ” کل سبب ونسب منقطع إلا سببي ونسبي “)
ما في ” البحر الرائق “ : وذو الرحم المحرم أولی بإدخال المرأة القبر، وکذا الرحم غیر المحرم أولی من الأجنبي، فإن لم یکن فلا بأس للأجانب وضعها۔
(۲۳۹/۲، کتاب الجنائز، فصل السلطان أحق بصلوته، الفتاوی الهندیة:۱۶۶/۱، الباب الحادي والعشرون في الجنائز، الفصل السادس في القبر والدفن الخ)
(فتاویٰ دار العلوم زکریا :۶۱۳/۲)
