میڈیکل لائسنس (Licence)/ سرٹیفکٹ(Certificate) کرایہ پر دینا!

(فتویٰ نمبر: ۱۰۴)

سوال:

میں فارمیسی کالج(Phormacy College) کا طالب علم (Student) ہوں، فارمیسی کالج کی فیس ایک لاکھ پچاس ہزار (1,50,000) روپئے ہیں، کورس کے مکمل ہونے پر ایک سرٹیفکٹ (Certificate)اور میڈیکل کھولنے کا لائسنس (Licence)دیا جاتا ہے، اگروہ لائسنس کسی دوسرے کو کرایہ پر دیا جائے، تو وہ مہینے کے 5000/سے12000/ روپئے دیتاہے، اکثر لوگ لائسنس کرایہ پر لے کر میڈیکل (Medical)کھولتے ہیں، تو سوال یہ ہے کہ لائسنس کرایہ پر دے کر اس طرح سے روپئے کمانا شرعاًکیسا ہے؟ جائز ہے یا نہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

فارمیسی کالج(Phormacy College) میں کورس (Course)مکمل کرنے کے بعد حکومتی ادارے کی طرف سے طالبِ علم کو جو میڈیکل لائسنس (Licence)دیا جاتا ہے، یہ ایک طرح سے اس بات کی شہادت ہوتی ہے کہ لائسنس ہولڈر (Licence Holder)کو دواوٴں کے متعلق پوری واقفیت اورجان کاری ہے، اوروہ گاہکوں کو غلط دوائیں نہیں دے گا۔

میڈیکل لائسنس (Medical Licence)کسی اور کو کرایہ پر دینا، انسانی جانوں کے ساتھ کھلواڑ، مقاصدِ شرع میں مخل اور ملکی قانون کی صریح خلاف ورزی ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” المستصفی من علم الأصول للغزالي “ : ومقصود الشرع من الخلق خمسة: وهو أن یحفظ علیهم دینهم ، ونفسهم ، وعقلهم ، ونسلهم ، ومالهم ، فکل ما یتضمن حفظ هذه الأصول الخمسة فهو مصلحة ، وکل ما یفوّت هذه الأصول فهو مفسدة ودفعها مصلحة ۔(۲۸۷/۱ ، ط : دار الفکر بیروت)

ما في ” الموافقات للشاطبي في أصول الشریعة “ : ومجموع الضروریات خمسة: وهي حفظ الدین،والنفس،والنسل،والمال،والعقل،وقد قالوا: إنها مراعاة في کل ملةٍ۔(۳۲۶/۲ )

ما في ” المقاصد الشرعیة للخادمي “ : إن الوسیلة أو الذریعة تکون محرمة إذا کان المقصد محرمًا، وتکون واجبةً إذا کان المقصد واجبًا ۔ (ص/۴۶ ) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۶/۲۶ھ

الجواب صحیح : عبد القیوم اشاعتی ۔۱۴۲۹/۶/۲۶ھ

 

اوپر تک سکرول کریں۔