(فتویٰ نمبر: ۲۱)
سوال:
اگر کوئی شخص اپنا فارمیسی(Phormacy)میڈیکل کا لائسنس (Licence) اگر کسی کو کرایہ پر دیتا ہے، اور اس کا کرایہ 2/یا 3/ ہزار روپے لیتا ہے، تو کیا اس کے لیے وہ پیسے حرام ہیں؟
اور اگر کوئی شخص 2/یا 3/ گھنٹے اس پر بیٹھتا ہے، تو کیا اس کے لیے بھی وہ پیسے حرام ہوں گے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
جو شخص ادویات کے متعلق کورس پاس کرتا ہے، حکومت اس شخص کو میڈیکل(Medical) کھولنے اور دوائیں فروخت کرنے کا اجازت نامہ دیتی ہے، یہ اجازت نامہ حکومت کی طرف سے ایک طرح کی شہادت ہوتی ہے کہ شخصِ مذکور کو ادویہ کی پوری معلومات وجان کاری ہے، وہ گاہک اور کسٹمر(Costomer)کو غلط دوائیں نہیں دے گا۔
یہ لائسنس( Licence)یعنی اجازت نامہ کسی اور کو کرایہ پر دینا شرعی وملکی قانون کی صریح خلاف ورزی ہونے کی وجہ سے جائز نہیں ہوگا؛ اس لیے کہ اس طرح کا عقد مقاصدِ شرعیہ میں مخل ہے، اور مخلِ مقاصدِ شرعیہ وہ مفسدہ ہے، جس کا دفع کرنا ضروری ہے ۔
اگرلائسنس ہولڈر( Licence Holder) محض دو تین گھنٹے بیٹھتا ہے، تو اس کا یہ بیٹھنا یا تو اس لیے ہوگا کہ وہ ملازم ہے ، اس صورت میں وہ بقدرِ وقت ومحنت اس اُجرت کا حق دار ہوگا جو دونوں کے مابین طے ہو، کیوں کہ فقہ کا قاعدہٴ مسلمہ ہے: ” اَلنِّعْمَةُ بِقَدْرِ النِّقْمَةِ ، وَالنِّقْمَةُ بِقَدْرِ النِّعْمَةِ “۔ (قواعد الفقه : ص/۱۳۳)۔ یا اُس کابیٹھنا اس لیے ہوگا کہ لائسنس (Licence)کرایہ پر لینے والے کے لیے دوائیں بیچنے کا جواز فراہم ہے، تب بھی یہ عقد جائز نہیں ہوگا، کیوں کہ جتنی دیر وہ بیٹھے گا اتنی دیر میں جو گاہک پہنچیں گے، انہیں تو صحیح دوائیں ملیں گی اور دیگر بقیہ اوقات میں جو دوائیں فروخت ہوں گی، اس میں اس کا یقین نہیں ہوگا کہ وہ صحیح ہیں یا غلط، اور یہ انسانی جانوں کے ساتھ ایک قسم کا کھلواڑ ہے، جس کی شریعت میں قطعاً اجازت نہیں ہے، اور نہ ہی ملکی دستور اس کی اجازت دیتا ہے، جیسا کہ دستور کے حصے چہارم کا آرٹیکل(19/6 In the Interest Of General Public) کی تعبیر وتشریح اس پر شاہد ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” المستصفی من علم الأصول للغزالي “ : ومقصود الشرع من الخلق خمسة: وهو أن یحفظ علیهم دینهم ، ونفسهم، وعقلهم، ونسلهم، ومالهم، فکل ما یتضمن حفظ هذه الأصول الخمسة فهو مصلحة، وکل ما یفوّت هذه الأصول فهو مفسدة ودفعها مصلحة۔ (۲۸۷/۱، ط: دار الفکر بیروت)
ما في ”الموافقات للشاطبي في أصول الشریعة“:ومجموع الضروریات خمسة:وهي حفظ الدین،والنفس،والنسل،والمال،والعقل،وقد قالوا:إنها مراعاة في کل ملةٍ۔(۳۲۶/۲)
ما في ” المقاصد الشرعیة للخادمي “ : إن الوسیلة أو الذریعة تکون محرمة إذا کان المقصد محرمًا، وتکون واجبةً إذا کان المقصد واجبًا۔ (ص/۴۶ ) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔ ۱۴۲۹/۱/۲۷ھ
الجواب صحیح : عبد القیوم اشاعتی مالیگانوی ۔ ۱۴۲۹/۱/۲۷ھ
