مسئلہ:
اگر نابالغ بچہ اپنی کسی ملکیت کو وقف کرے ، تو اس کا وقف کرنا درست نہیں ہوگا(۱)، کیوں کہ وقف کے صحیح ہونے کے لیے واقف کا عاقل اور بالغ ہونا ضروی ہے(۲)، شریعت نے نابالغ بچوں کو اپنے مال میں صرف اُن ہی معاملات میں تصرف کا اختیار دیا ہے، جن میں اُن کے لیے خالص نفع کا پہلو ہو، یا یہ کہ نقصان کا اندیشہ موہوم ہو، اور ایسے تصرفات جن میں دنیاوی اعتبار سے صرف نقصان ہو، وہ اس کے مجاز نہیں ہیں، کیوں کہ ممکن ہے کہ وہ ان میں اپنی نادانی اور بے شعوری کی وجہ سے اپنا نقصان کربیٹھیں، اور وقف چونکہ ایسے ہی تصرفات میں داخل ہے، اس لیے بچہ کا وقف کرنا درست نہیں ہوگا۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” بدائع الصنائع “ : أما الذي یرجع إلی الواقف فأنواع: منها العقل ومنها البلوغ، فلا یصح الوقف من الصبي والمجنون، لأن الوقف من التصرفات الضارة لکونه إزالة الملک بغیر عوض، والصبي والمجنون لیسا من أهل التصرفات الضارة، ولهذا لا تصح منهما الهبة والصدقة والإعتاق ونحو ذلک۔
(۳۹۵/۸، کتاب الوقف والصدقة، فصل في شروط الجواز)
(۲) ما في ” حاشیة القدوري “ : وشرطه ما هو شرائط في سائر التبرعات من کونه عاقلا بالغًا حرًا۔ (ص:۱۳۸، کتاب الوقف)
ما في ” البحر الرائق “ : وشرائطه أهلیة الواقف للتبرع من کونه حرًا عاقلا بالغًا۔(۳۱۳/۵، کتاب الوقف، کذا في التنویر مع الدر والرد:۴۱۰/۶)
ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : وتصرف الصبي والمعتوه إن کان نفعًا محضًا کالإسلام والاتهاب صح بلا إذن، وإن ضارًا کالطلاق والعتاق والصدقة والقرض لا وإن إذن به ولیهما۔ قال الشامي رحمه الله: قوله: (وإن ضارًا) أي من کل وجه: أي ضررًا دنیویاً، وإن کان فیه نفع أخروي کالصدقة والقرض۔
(۲۰۸-۲۰۷/۹، کتاب المأذون، مبحث في تصرف الصبي ومن له الولایة علیه الخ)
(فتاویٰ محمودیه:۶۴/۲۱)
