نام کے ساتھ لفظ” مفتی “یا ”پروفیسر“ لگانا

مسئلہ:

آج کل بہت سے لوگ حقیقت میں پروفیسر، مفتی یا عالم نہیں ہوتے ہیں، مگر اپنے نام کے ساتھ پروفیسر، مفتی یا عالم کا لفظ استعمال کرتے ہیں، شرعاً یہ خلافِ واقعہ اور جھوٹ ہے، لہذا ان سے پرہیز کرنے کی سخت ضرورت ہے، کیوں کہ پروفیسر ایک خاص اصطلاح ہے، جو خاص لوگوں کیلئے بولی جاتی ہے، اور مفتی و عالم کا لفظ اس شخص کیلئے استعمال ہوتا ہے، جو درسِ نظامی کا فارغ التحصیل ہو، اور باقاعدہ اس نے کسی سے علم دین حاصل کیا ہو۔

الحجة علی ماقلنا :

ما فی ” السنن لأبي داود “ : عن أبی وائل بن عبد الله قال: قال رسول الله ﷺ: ” إیاکم والکذب، فإن الکذب یهدی إلی الفجور، وإن الفجور یهدی إلی النار، وإن الرجل لیکذب ویتحری الکذب حتی یکتب عند الله کذاباً، وعلیکم بالصدق، فإن الصدق یهدی إلی البر، وإن البر یهدی إلی الجنة، وإن الرجل لیصدق ویتحری الصدق حتی یکتب عند الله صدیقاً“۔(ص:۶۸۱، کتاب الأدب، باب التشدید فی الکذب)

ما فی ” الحدیث النبوی “ : عن أبی هریرة قال : قال رسول الله ﷺ : ” آیة المنافق ثلاث ؛ ۔۔۔۔۔۔ إذا حدث کذب ، وإذا وعد أخلف ، وإذا اوٴتمن خان “ ۔

(ص:۱۷، کتاب الإیمان ، باب الکبائر وعلامات النفاق ، الفصل الأول)

(اسلام اور جدید معاشی مسائل : ۲۰۷/۱)

اوپر تک سکرول کریں۔