نشیبی علاقوں میں پلاٹنگ

مسئلہ:

آج کل شہروں میں آبادی کے پھیلاوٴ کا ایک پہلو یہ ہے کہ بہت سے نشیبی علاقوں (جو تالاب کی صورت میں تھے) میں لوگ پلاٹنگ کرکے انہیں فروخت کررہے ہیں، اور وہاں آبادیاں بسائی جارہی ہیں، اس سے ایک طرف یہ نقصان ہورہا ہے کہ جو پانی ان نشیبی علاقوں میں جمع ہوتا تھا اب وہ آبادیوں میں پھیل جاتا ہے، اور دوسری طرف یہ نقصان ہورہا ہے کہ پانی کی ذخیرہ اندوزی بھی متاثر ہورہی ہے، اور بہ حیثیت مجموعی پانی کی سطح نیچے چلی جارہی ہے، جس سے پوری آبادی کو نقصان پہنچ رہا ہے، اس لئے نشیبی علاقوں میں پلاٹنگ کرکے انہیں فروخت کرنا اور آبادیاں بسانا، جب کہ اس سے ضرر عام لاحق ہو درست نہیں ہے، خواہ حکومت کی طرف سے ممانعت ہو یا نہ ہو۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” تنویر الأبصار وشرحه “ : لا یمنع الشخص من تصرفه فی ملکه إلا إذا کان الضرر بجاره ضرراً بیناً فیمنع من ذلک۔ وعلیه الفتوی ۔(۱۵۲/۸، کتاب القضاء)

ما فی ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : لا یمنع أحد من التصرف فی ملکه ما لم یکن ضرر فاحش للغیر۔ (۲۱۰/۳، رقم المادة: ۱۱۹۷)

ما فی ” قواعد الفقه “ : لا ضَرر ولا ضِرار۔ (ص:۱۰۶، رقم القاعدة:۲۵۲)

(تجاویز بیسواں فقهی سمینار اسلامک فقه اکیڈمی انڈیا: ۲۰۱۱ء)

اوپر تک سکرول کریں۔