مسئلہ:
نمازِ اوّابین کی رکعات کم از کم چھ(۱)، اور زیادہ سے زیادہ بیس ہیں(۲)، مغرب کی دورکعت( سنت) اوّابین میں داخل ہیں(۳)، اگر کوئی شخص دو رکعت سنتِ موٴکدہ کے علاوہ چار رکعت یا اٹھارہ رکعات اوّابین پڑھتا ہے، تو وہ بھی اس ثواب کا مستحق ہوگا، اس لیے طلبہ کے اِس با جماعت نفل پر اوّابین کا اِطلاق اُسی وقت ہوگا جب کہ وہ دو رکعت سنتِ موٴکدہ کے علاوہ نمازِ اوّابین کی چار رکعت پڑھیں،نیز جامعہ کا نظام بھی یہی ہے کہ ہر حافظ طالبِ علم روزانہ پاوٴ پارہ اس طرح پڑھے کہ پہلی دو رکعت میں وہ امام بنے اور دوسری دو میں مقتدی، اس طرح کل چار رکعتیں ہوجاتی ہیں، اور مغرب کی دو رکعتیں ملائی جائیں تو چھ رکعتیں، اس طرح ان کی اس نفل نماز پر اوّابین کا اِطلاق ہوجائیگا، جامعہ کی انتظامیہ نے یہ نظام اس لیے ترتیب دیا کہ جہاں پر طلبہ اوّابین کے عادی اور اس کی فضیلت کے مستحق ہوں، وہیں ان کے حفظِ قرآنِ کریم میں پختگی بھی آجائے، طلبہٴ عزیز سے قوی امید ہے کہ وہ اِس نظام کی مکمل پیروی وپابندی کرکے اسے مضبوط بنائیں گے۔(۴)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” جامع الترمذي “ : عن أبي هریرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله ﷺ: ” من صلّی بعد المغرب ستَّ رکعاتٍ لم یتکلم فیما بینهنّ بسوء عُدلن له بعبادة ثنتي عشرة سنة “۔ (۹۸/۱، کتاب الصلاة، باب ما جاء في فضل التطوع وستّ رکعات بعد المغرب، رقم الحدیث:۴۳۵)
(۲) ما في ” شرح الطیبي “ : عن عائشة – رضي الله عنها – قالت: قال رسول الله ﷺ: ” من صلّی بعد المغرب عشرین رکعة بنی الله له بیتًا في الجنّة “۔
(۸۹/۳، کتاب الصلاة، باب السنن وفضلها، رقم الحدیث:۱۱۷۴)
(۳) ما في ” مرقاة المفاتیح “ : المفهوم أن الرکعتین الراتبتین داخلتان في الستّ، وکذا في العشرین المذکورة في الحدیث الآتي قاله الطیبي۔ (۲۲۶/۳)
ما في ” شرح الطیبي “ : المفهوم من الحدیث أن الستّ المذکورة فیه والعشرین في الحدیث الآتي هي مع الرکعتین الراتبتین۔ (۸۹/۳، باب السنن وفضلها)
(۴) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وتعاونوا علی البرِّ والتقوی ولا تعاونوا علی الإثم والعُدوان﴾۔ (سورة المائدة:۲)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند:۲۱۷/۴)
