(فتویٰ نمبر : ۱۲۷)
سوال:
کیا پورے رمضان ، یا رمضان کے عشرہٴ اخیرہ میں نمازِ تہجد کے لیے اجتماع واہتمام شریعت سے ثابت ہے ؟
الجواب وباللہ التوفیق:
تراویح، استسقا اور کسوف کے علاوہ نفلوں کی جماعت اگر بالتداعی ہو (یعنی چار آدمی مقتدی ہوں)تو بہر صورت مکروہِ تحریمی ہے ،خواہ وہ نفلیں رمضان میں پڑھی جائیں یا غیر رمضان میں پڑھی جائیں ، یہی مسلک عام فقہا ومحدثین کا ہے ، اور اسی پر سلفِ صالحین کا فتویٰ اور تعامل رہا ہے ۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” بدائع الصنائع “ : قال الإمام علاء الدین أبو بکر بن مسعود الکاساني الحنفي : أن الجماعة في التطوع لیست بسنة إلا في قیام رمضان ، وإنما عرفنا الجماعة سنة في التراویح بفعل رسول اللّٰه ﷺ وإجماع الصحابة رضي اللّٰه عنهم ، فإنه روي أن رسول اللّٰه ﷺ صلی التراویح في المسجد لیلتین وصلی الناس بصلاته ، وعمر رضي اللّٰه عنه في خلافته استشار الصحابة أن یجمع الناس علی قارئ واحد فلم یخالفوه فجمعهم علی أبي بن کعب رضي اللّٰه عنه ۔
(۳۰۰/۲ ،۳۰۱ ، کتاب الصلاة ، فصل فیما یفارق التطوع الفرض ، ط : بیروت)
ما في ” البحر الرائق “ : ولوصلوا التراویح ثم أرادوا أن یصلوها ثانیًا یصلون فرادیٰ ۔(۱۲۰/۲ ، کتاب الصلاة ، باب الوتر والنفل ، ط : بیروت)
ما في”خلاصة الفتاوی “:ولو زاد علی العشرین بالجماعة یکره عندنا بناء علی أن صلاة التطوع بالجماعة مکروه۔(۱/ ۶۳ ،کتاب الصلاة،الفصل الثالث في التراویح،ط:رشیدیه کوئٹه)
ما في ” بدائع الصنائع “ : إذا صلوا التراویح ثم أرادوا أن یصلوها ثانیًا یصلون فرادی ؛ لأن الثانیة تطوع مطلق ، والتطوع المطلق بجماعة مکروه ۔
(۲۷۸/۲ ، کتاب الصلاة ، فصل في التراویح ، ط : زکریا دیوبند) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۰/۲۶/ ۱۴۲۹ھ
