مسئلہ:
نمازِ جنازہ میں بعد میں آنے والے شخص کے لیے یہ حکم ہے کہ وہ امام کی اگلی تکبیر کاانتظار کرے، جب امام تکبیر کہے تو اس کے ساتھ یہ شخص بھی تکبیر کہتا ہوا شامل ہوجائے، پھر اگر اسے معلوم ہے کہ یہ کونسی تکبیر ہے، تو امام کی موافقت کرتے ہوئے اس تکبیر کے بعد والی دعا پڑھے، اور اگر یہ معلوم نہیں کہ یہ دوسری تکبیر ہے یا تیسری، تو پھر ترتیب وار اپنی پہلی تکبیر کے بعد ثناء ، پھر دوسری تکبیر کے بعد درود شریف، اور تیسری تکبیر کے بعد دُعا پڑھے، اور اگر ایک یا دو تکبیر کے بعد ہی امام نے سلام پھیردیا، اور چُھوٹی ہوئی تکبیریں دعاوٴں کے ساتھ ادا کرنے کا موقع نہیں ہے، تو صرف چُھوٹی ہوئی تکبیریں کہہ کر سلام پھیردے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” التنویر وشرحه مع الشامیة “ : والمسبوق ببعض التکبیرات لا یکبر في الحال بل ینتظر تکبیر الإمام لیکبر معه للافتتاح ، لما مر أن کل تکبیرة کرکعة ۔ تنویر وشرحه ۔ وفي الشامیة: قال الشامي رحمه الله تعالی: وفي نور الإیضاح وشرحه أن المسبوق یوافق في دعائه لو علمه بسماعه، ولم یذکر ما إذا لم یعلم ، وظاهر تقییده الموافقة بالعلم أنه إذا لم یعلم بأن لم یعلم أنه في التکبیرة الثانیة أو الثالثة مثلا یأتي به مرتبا: أي یأتي بالثناء ثم الصلاة ثم الدعاء۔
(۱۱۶-۱۱۴/۳، باب صلاة الجنازة، مطلب هل یسقط فرض الکفایة بفعل الصبي)
ما في ” الفتاوی التاتارخانیة “ : فإذا انتهی إلی الإمام في صلاة الجنازة وقد سبقه بتکبیرة لا یکبر ولکنه ینتظر الإمام حتی یکبر فیکبر معه، وإذا سلم الإمام قضی هذا الرجل ما فاته قبل أن ترفع الجنازة، وهذا مذهب أبي حنیفة ومحمد۔
(۶۵۰/۱، الفصل الثاني والثلاثون في الجنائز، القسم الثاني في کیفیة الصلاة علی المیت، ومما یتصل بهذا القسم، البحر الرائق:۳۲۴/۲، کتاب الجنائز، فصل السلطان أحق بصلاته، الفتاوی الهندیة:۱۶۴/۱۔۱۶۵، الباب الحادي والعشرون، الفصل الخامس في الصلاة علی المیت)
(فتاویٰ دارالعلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۳۹۰۳۶)
