نمازِ جنازہ کی امامت پر اجرت

مسئلہ:

متقدمین فقہاء کے نزدیک عبادات پر اجرت لینا جائز نہیں، لیکن متأخرین فقہاء نے ضرورت کی وجہ سے بعض طاعات مثلاً؛ امامت، اذان اور تعلیمِ قرآن وفقہ وغیرہ پر اجرت لینے کو جائز قرار دیا ہے، نمازِ جنازہ کی امامت اس میں شامل نہیں ہے، لہٰذا نمازِ جنازہ کی امامت پر اجرت لینا جائز نہیں، اور ایسے موقع پر ہدیہ بھی بظاہر اجرت ہی کے حکم میں ہے، اس لیے اس ہدیہ کا لینا دینا بھی درست نہیں ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” رد المحتار “ : وقد اتفقت کلمتهم جمیعًا علی التصریح بأصل المذهب من عدم الجواز، ثم استحسنوا بعده ما علمته، فهذا دلیل قاطع وبرهان ساطع علی أن المفتی به لیس هو جواز الاستئجار علی کل طاعة ، بل علی ما ذکروه فقط مما فیه ضرورة ظاهرة تبیح الخروج عن أصل المذهب من طروّ المنع ۔

(۷۶/۹، کتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، مطلب تحریم مهم في عدم جواز الاستئجار علی التلاوة والتهلیل ونحوهه مما لا ضرورة علیه)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ: ۴۷۹۲۳)

اوپر تک سکرول کریں۔