(فتویٰ نمبر:۱)
سوال:
نماز میں کھانسنے کا حکمِ شرعی کیا ہے ؟
الجواب وباللہ التوفیق:
اگر کھانسنا کسی عذر کی وجہ سے ہو، جیسے کھانسی کا مرض ہو یا بے اختیار کھانسی آجائے، تو نماز فاسد نہیں ہوگی،خواہ اس کھانسنے میں کتنے ہی حروفِ ہجائیہ حاصل ہوں، کیوں کہ یہ صاحبِ حق (اللہ تعالیٰ) کی طرف سے ہے اس لیے معاف ہے۔
لیکن اگر کھانسنا بلاعذر اور بلا غرضِ صحیح ہو، یعنی نہ قرأت کے لیے آوازصاف کرنے، اور نہ یہ بتلانے کے لیے کہ وہ نماز میں ہے اور نہ اپنے امام کو اس کی غلطی پر آگاہ کرنے کے لیے،تو اس کھانسنے میں اگر دو حرف حاصل ہوں، جیسے اَ ح ، اُح ، تو طرفین کے نزدیک نماز فاسد ہوگی۔اور اگر کھانسنا بلا عذر مگر غرضِ صحیح سے ہو، مثلاً قرأت کے لیے آواز صاف کرنے یا اپنے نماز میں ہونے کو بتلانے یا اپنے امام کو اس کی غلطی پر آگاہ کرنے کے لیے ہو، تو نماز فاسد نہیں ہوگی۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” التنویر مع الدر والرد “ : والتنحنح بحرفین بلا عذر أما به بأن نشأ من طبعه فلا، أو بلا غرض صحیح، فلو لتحسین صوته أو لیهتدي إمامه أو للإعلام أنه في الصلاة فلا فساد علی الصحیح ۔(۳۷۶/۲، کتاب الصلاة ، باب ما یفسد الصلاة وما یکره فیها ، البحر الرائق : ۹/۲) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۸/۱۱/۵ھ
