مسئلہ:
بعض علاقوں میں نکاح کے موقع پر دولہے سے تین مرتبہ قبول کرواتے ہیں، نیز اس سے کلمہٴ توحید بھی پڑھواتے ہیں، جب کہ نکاح کے صحیح ہونے کے لیے ایک مرتبہ ایجاب وقبول کافی ہے، یعنی ایک طرف سے کہا جائے کہ ” میں نے نکاح کیا“ اور دوسری طرف سے کہا جائے ” میں نے قبول کیا“(۱)– تین مرتبہ ایجاب وقبول ضروری نہیں، اور نہ ہی دولہے سے کلمہ پڑھوانا ضروری ہے، مگر آج کل لوگ جہالت کی وجہ سے کفر کی باتیں بکتے رہتے ہیں، اس لیے اگر احتیاطاً کلمہ پڑھوادیا جائے تواس میں کوئی مضائقہ بھی نہیں ہے(۲)، لیکن چونکہ آج کل اس میں بڑی سختی کی جاتی ہے ، کہ ایک فرقہ اس کے بغیر نکاح کو صحیح مانتا ہی نہیں ہے، خواہ دولہا – کلمہ ، ایمانِ مجمل ومفصل سے نہ صرف واقف بلکہ اس کے تقاضوں پر عامل ہو، تب بھی کلموں اور ایمان مجمل ومفصل پڑھوانے پر اصرار کرتا ہے، جب کہ دوسرا گروہ اسے بدعت قرار دے کر اس کی سخت مخالفت کرتا ہے، اس سلسلے میں صحیح بات یہ ہے کہ جو دولہا کلمہ اور ضروری عقائد سے واقف نہیں، اسے کلمہ اور ایمان مجمل ومفصل پڑھا دیا جائے ، اور جو اس سے واقف ہے اُس پر اِس کا اصرار نہ کیا جائے۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وینعقد متلبسًا (بإیجاب) من أحدهم وقبول من الآخر ۔ الدر المختار ۔ وفي الشامیة: قوله: (وینعقد) أي النکاح: أي یثبت ویحصل انعقاده بالإیجاب والقبول۔ (۶۰/۴، کتاب النکاح)
ما في ” بدائع الصنائع “ : لا خلاف في أن النکاح ینعقد بلفظین یعبر بهما عن الماضي کقوله: زوجت وتزوجت، وما یجري مجراه، وإما بلفظین یعبر بأحدهما عن الماضي وبالآخر عن المستقبل کما إذا قال رجل لرجل: زوجني بنتک ، فقال الأب: قد زوجتک۔(۳۲۲/۳، کتاب النکاح، فصل في رکن النکاح، الفتاوی الهندیة:۲۶۷/۱)
(۲) ما في ” الشامیة “ : قال في تبیین المحارم: علم الألفاظ المحرمة أو المکفرة، ولعمري هذا من أهم المهمات في هذا الزمان، لأنک تسمع کثیرًا من العوام یتکلمون بما یکفر وهم عنها غافلون، والاحتیاط أن یجدد الجاهل إیمانه کل یوم، ویجدد نکاح امرأته عند شاهدین في کل شهر مرة أو مرتین، إذ الخطأ وإن لم یصدر من الرجل فهو من النساء کثیر۔ (۱۲۲/۱، مقدمة، مطلب في فرض الکفایة وفرض العین)
(فتاویٰ محمودیہ : ۸۲/۱۶ ، فتاویٰ رحیمیہ : ۱۵۸/۸ ، فتاویٰ دار العلوم دیوبند: ۵۴/۷)
