نیل گائے کی قربانی درست ہے یا نہیں ؟

مسئلہ:

نیل گائے کی قربانی درست نہیں، قربانی کے جانوروں کی تعیین شرعی سماعی ہے،قیاس کو اس میں دخل نہیں، اور شریعتِ مقدسہ میں صرف تین قسم کے جانوروں کی قربانی درست ہے:

پہلی قسم:…اونٹ نر ومادہ۔

دوسری قسم:…بکرا بکری، مینڈھا(دنبہ) بھیڑ، نرومادہ۔

تیسری قسم: …گائے، بھینس نرومادہ۔

ان کے علاوہ کسی بھی جانور کی قربانی کرنا درست نہیں ہے، اور ان جانوروں کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ وحشی نہ ہوں بلکہ پالتو اور انسانوں سے مانوس ہوں۔

الحجة علی ما قلنا

ما في ’’الفتاوی الهندیة ‘‘: وإن ضحی بظبیة وحشیة أنست أو ببقرة وحشیة أنست لم تجز۔(۲۹۷/۵،کتاب الأضحیة، في بیان محل إقامة الواجب)

ما في ’’ تبیین الحقائق‘‘: والوحشي إن کانت الأم أھلیة جاز لأن جواز التضحیة بهذه الأشیاء عرفت شرعا بالنص علی خلاف القیاس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ أما جنسه فهو أن یکون من الأجناس الثلاثة والغنم والإبل والبقرة في کل جنس نوعه والذکر والأنثی منه والجاموس نوع البقر۔ (۴۸۳/۶، البحر الرائق:۳۲۴/۴ ، فتاوی قاضیخان:۳۳۱/۴

(کفایت المفتی: ۱۹۱/۸،۱۹۲)

اوپر تک سکرول کریں۔