والدین کے حقوق اُن کی وفات کے بعد

مسئلہ:

علماء کرام نے قرآن وحدیث کی روشنی میں ماں باپ یا ان میں سے کسی ایک کے انتقال کے بعد ان کے سات حقوق بیان فرمائے ہیں:

(۱) ان کے لیے اللہ سے معافی اور رحمت کی دعائیں کرنا۔

(۲) ان کی جانب سے ایسے اعمال کرنا جن کا ثواب ان تک پہنچے۔

(۳) ان کے رشتے دار دوست ومتعلقین کی عزت کرنا۔

(۴) ان کے رشتے دار دوست ومتعلقین کی حتی الامکان مدد کرنا۔

(۵) ان کی امانت اور قرض ادا کرنا۔

(۶) ان کی جائز وصیت پر عمل کرنا۔

(۷) کبھی کبھی ان کی قبر پر جانا۔

الحجة علی ما قلنا :

 ما في ” صحیح مسلم “ : عن عبد الله بن عمر قال: سمعت رسول الله ﷺ یقول: ” إن من أبرّ البرِّ صلة الرجل أهل وُدّ أبیه بعد أن یُولّی “۔

(۳۱۴/۲، کتاب البر والصلة، باب فضل صلة أصدقاء الأب والأم ونحوهما، رقم:۲۵۵۲)

ما في ” مرقاة المفاتیح “ :(بعد أن یولی)بتشدید اللام المکسورة أي یدبر ویغیب بسفرأوموت۔(۱۲۸/۹،کتاب الآداب،باب البر والصلة، الفصل الأول،رقم:۴۹۱۷)

ما في ” مشکوة المصابیح “ : عن أبي أسید الساعدي قال: بینا نحن عند رسول الله ﷺ إذ جاءه رجل من بني سلمة فقال: یا رسول الله! هل بقي من برّ أبويّ شيء أبرهما به بعد موتهما؟ قال: ” نعم ؛ الصلاة علیهما، والاستغفار لهما، وانفاد عهدهما من بعدهما، وصلة الرحم التي لا توصل إلا بهما، وإکرام صدیقهما “۔ رواه أبو داود وابن ماجة۔

(ص:۴۲۰، کتاب الآداب، باب البر والصلة، الفصل الثاني، رقم: ۴۹۳۶، تفسیر القرطبي:۲۴۱/۱۰، سورة الإسراء:۲۳، سنن ابي داود:۷۰۰، کتاب الأدب، باب في بر الوالدین، رقم: ۵۱۴۲)

(اصلاحی مضامین:ص/۱۶۱، والدین کے حقوق؛ از مولانا نجیب قاسمی سنبھلی)

اوپر تک سکرول کریں۔