مسئلہ:
دین کی دو قسمیں ہیں:(۱)وہ دین جس کے وصول ہونے کی کوئی امید نہ ہو،جیسے ڈوبی ہوئی رقم۔(۲)وہ دین جس کے وصول ہونے کی پوری امید ہو۔
جس دین کے وصول ہونے کی امید نہیں تھی، اگروہ وصول ہوجائے تو وصولی کے دن سے ایک سال گزرنے کے بعد ہی زکوة واجب ہوگی ۔
جس دین کے وصول ہونے کی پوری امید تھی،اس کی تین صورتیں ہیں :
(الف)وہ دین قرض کی صورت میں ہو، یاسامانِ تجارت کی قیمت کسی کے ذمہ باقی ہو،اس دین کے وصول ہونے کے بعدسالہائے گذشتہ یعنی گزرے ہوئے سالوں کی زکوة بھی اداکرنی ہوگی ۔
(ب)وہ دین جو ایسے مال کے عوض ہوجوتجار ت کیلئے نہیں ،اور نہ قرض کے طور پر تھا، جیسے مالِ وراثت یا مالِ وصیت ۔
(ج)ایسا دین جو کسی مال کا عوض نہ ہو، جیسے مہر ،ان دونوں صورتوں ( صورت ب وج ) میں گذشتہ سالوں کی زکوة واجب نہیں ہوگی۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” رد المحتار “ : واعلم أن الدیون عند الإمام ثلاثة : قوي ، ومتوسط ، وضعیف ، فتجب زکاتها إذا تم نصاباً ، وحال الحول ، ولکن لا فورًا بل عند قبض أربعین درهمًا من الدین القوي کقرض وبدل مال تجارة ، فکلما قبض أربعین درهمًا یلزمه درهمٌ ، وعند قبض مائتین منه بغیرها ، أي من بدل مال بغیر تجارة وهو المتوسط ، کثمن سائمة وعبید خدمة ونحوهما مما هو مشغول بحوائجه الأصلیة ، کطعام ، وشراب ، وأملاک ، ویعتبر ما مضی من الحول قبل القبض في الأصح ، ومثله ما لو ورث دینا علی رجل ، وعند قبض مأتین مع حولان الحول بعده ، أي بعد القبض من دین ضعیف ، وهو بدل غیر مال ،کمهر ، ودیة ، وبدل کتابة ، وخلع ۔
(۲۳۶/۳،۲۳۹ ، کتاب الزکوٰة ، باب زکوة المال ، بدائع الصنائع :۳۹۲/۲ ، کتاب الزکاة ، فصل في الشرائط التی ترجع إلی المال ، کذا في خلاصة الفتاویٰ :۲۳۸/۱ ، کتاب الزکاة ، الفصل السادس في الدیون ، وکذا فی التاترخانیة :۵۸/۲ ، ۵۹ ، کتاب الزکاة ، الفصل الثالث عشر فی زکوٰة الدیون ، الفتاویٰ الهندیة :۱۷۵/۱ ، کتاب الزکاة ، النتف فی الفتاویٰ :ص/۱۱۱، کتاب الزکاة ، المال الحاضر أو الغائب ، تحفة الفقهاء :۲۹۳/۱ ،۲۹۴ ، کتاب الزکاة ، زکاة الدیون عند أبي حنیفة)
