ووٹ کی خریدوفروخت کا حکم شرعی کیا ہے ؟

مسئلہ:

شرعاً ووٹ کی حیثیت شہادت، شفاعت اور وکالت کی سی ہے، گویا کہ جس شخص کو ووٹ دیا جاتا ہے اس کے حق میں ملک وملت کے خیر خواہ ہونیکی شہادت دی جاتی ہے، متعلقہ وکیل اورنمائندہ بنایاجاتا ہے اور ان تینوں حیثیتوں کے اعتبار سے ووٹ مالِ متقوم نہیں یعنی ایسا مال نہیں ہے جس سے شرعاً نفع اٹھانا ممکن ہو، جبکہ شرعاً کسی بھی چیز کی خریدو فروخت جائز ہونے کیلئے اس کا مالِ متقوم ہونا ضروری ہے، اس لیے ووٹ کی خرید وفروخت شرعاًجائز نہیں ہے۔

الحجة علی ماقلنا

ما في ’’ الشامیة ‘‘: الشهادة إخبار صدق لإثبات حق ۔ (۷۰/۱۱)

ما في ’’ الموسوعة الفقهیة ‘‘: الشفاعة ھي التوسط بالقول في وصول شخص إلی منفعة دنیویة أو أخرویة أو إلی خلاص من مضرة کذلک۔(۱۳۱/۲۶)

ما في ’’ حاشیة الجوھرة النیرة ‘‘: الوکالة عقد تفویض ینیب فیه شخص شخصاً آخر عن نفسه في التصرف ۔ (۶۳۶/۱، کتاب الوکالة)

ما في ’’ معجم لغة الفقھاء ‘‘:  المال المتقوم المال الذي یمکن الانتفاع به ۔things with commercial value  ۔ (ص۳۹۷)

ما في ’’ الفقه الإسلامي وأدلته ‘‘: اتفق الفقھاء علی صحة البیع إذا کان المعقود علیه مالاً متقوماً محرزاً موجوداً مقدوراً علی تسلیمه معلوماً للعاقدین لم  یتعلق به حق الغیر ۔

(۳۴۹۶/۵، البیوع الممنوعة لسبب المعقود علیه)

اوپر تک سکرول کریں۔