مسئلہ:
اگر کسی شخص کو کسی نے کوئی رقم دی کہ بکرا خرید کر مستحقین کو صدقہ کردے، تو وکیل پر بکرے کا صدقہ کرنا ضروری ہے(۱)، البتہ اگر وہ اپنے موٴکل سے اجازت لے لے کہ میں اس رقم سے کسی کی امداد بھی کرسکتا ہوں، اور وہ اجازت دیدے، تو پھر بکرے کا صدقہ کرنا لازم نہ ہوگا، بلکہ اس رقم سے امداد کرنا بھی جائز ہوگا۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : الوکالة الخاصة هي ما کان إیجاب المؤکل فیها خاصًا بتصرف معین، کأن یؤکل إنسان آخر في أن یبیع له سلعة معینة، وفي هذه الحالة لا یجوز للوکیل أن یتصرف إلا فیما وکل به باتفاق الفقهاء۔ (۲۶/۴۵۔۲۷، وکالة، الوکالة الخاصة)
ما في ” بدائع الصنائع “ : لأن الوکیل یتصرف بولایة مستفادة من قبل المؤکل فیملک قدر ما أفاده۔ (۲۹/۵، کتاب الوکالة، بیان حکم التوکیل)
(۲) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وللوکیل أن یدفع لولده الفقیر وزوجته لا لنفسه إلا إذا قال ربها: ضعها حیث شئت۔
(۱۸۸/۳۔۱۸۹، کتاب الزکاة، مطلب في زکاة ثمن المبیع وفاءً، البحر الرائق:۳۶۹/۲، کتاب الزکاة)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ :۴۶۵۶۲)
