ٹھیکیداروں کو رشوت دینا

مسئلہ:

بہت سے لوگ گورنمنٹ کے کام میں گُتّہ داری (ٹھیکیداری) کا کام کرتے ہیں، لیکن اُنہیں ان کاموں میں بڑی دشواریاں ہوتی ہیں، کہ ان کاموں کو لینے کے لیے آفیسروں کو رشوت دینی پڑتی ہے، ٹھیکہ داری کا کام تو اصلاً جائز ہے، لیکن اسے حاصل کرنے کے لیے افسروں کو رشوت دینا اور اُن کا اِس رشوت کو لینا، دونوں حرام ہے، کیوں کہ شریعت نے رشوت لینے دینے کو حرام قرار دیا ہے، تاہم رشوت لینے اور دینے میں یہ فرق ہے کہ رشوت لینے والا تو بہر صورت گنہگار ہے، البتہ رشوت دینے والا اُس وقت گنہگار ہوتا ہے جب ناحق کو حاصل کرنے ، یا کسی حقدار کو محروم کرنے کی غرض سے رشوت دے، تو ضرورتاً اس کی گنجائش ہے، لہٰذا جو مسلمان ٹھیکیدار رشوت دینے پر مجبور ہوں، اُن کے لیے اِس طرح کے معاملہ کی گنجائش ہے، اور ان کی آمدنی حلال ہے، اور وہ اپنی اس آمدنی سے حج وعمرہ اور صدقہ وخیرات بھی کرسکتے ہیں، البتہ مسلم وغیر مسلم ہر ایک کا یہ فریضہ ہے کہ وہ کرپشن کے آگے سرنِگوں ہوجانے کی بجائے، اس کی مزاحمت کرے، اورسرکاری نظام میں ایمانداری وشفافیت لانے کی کوشش کرے، کیوں کہ کرپشن پورے ملک کو نقصان پہنچانے اور اجتماعی اَملاک کو لوٹنے کے مترادف ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” سنن أبي داود “ : عن عبد الله بن عمرو قال: ” لعن رسول الله ﷺ الراشي والمرتشي “۔

(ص:۵۰۴، کتاب القضاء، باب في کراهیة الرشوة، رقم الحدیث:۳۵۸۰، جامع الترمذي:۲۴۸/۱، أبواب الأحکام، باب ما جاء في الراشي والمرتشي في الحکم، رقم الحدیث:۱۳۳۶)

ما في ” بذل المجهود “ : فإذا أعطی لیتوصل به إلی حق أو یدفع عن نفسه ظلمًا فإنه غیر داخل في هذا الوعید۔ (۳۰۶/۱۱)

ما في ” أحکام القرآن للجصاص “ : ولا خلاف في تحریم الرشا علی الأحکام وأنها من السحت الذي حرمه الله في کتابه ۔۔۔۔۔ ووجه آخر من الرشوة وهو الذي یرشو السلطان لدفع ظلمه عنه، فهذه الرشوة محرمة علی آخذها غیر محظورة علی معطیها، وروی عن جابر بن زید والشعبي قالا: لا بأس بأن یصانع الرجل عن نفسه وماله إذا خاف الظلم، وعن عطاء وإبراهیم مثله۔ (۵۴۱/۲، سورة المائدة، باب الرشوة)

ما في ” الفتاوی الشامیة “ : وفي الفتح : ثم الرشوة أربعة أقسام: ۔۔۔۔۔۔ الرابع : ما یدفع لدفع الخوف من المدفوع إلیه علی نفسه أو ماله، حلال للدافع حرام علی الآخذ، لأن دفع الضرر عن المسلم واجب۔(۳۳/۸، کتاب القضاء، مطلب في الکلام علی الرشوة والهدیة، ط: دیوبند)

ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : ویحرم طلب الرشوة وبذلها وقبولها کما یحرم عمل الوسیط بین الراشي والمرتشي، غیر أنه یجوز للإنسان عند الجمهور أن یدفع رشوة للحصول علی حق، أو لدفع ظلم أو ضرر، ویکون الإثم علی المرتشي دون الراشي۔ (۲۲۲/۲۲، رشوة، أحکام الرشوة)

اوپر تک سکرول کریں۔