مسئلہ:
ٹی وی (T.V ) اور ویڈیو فلم (Video film) کا کیمرہ جو تصویریں لیتا ہے، وہ اگر چہ غیر مرئی (دکھائی نہ دینے والی ) ہوتی ہیں ، لیکن تصویر بہر حال محفوظ ہوتی ہیں ، اور اس کو ٹی وی پر دیکھا اور دکھایا جاتا ہے، اس کو تصویر کے حکم سے خارج نہیں کیا جاسکتا ، زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہاتھ سے تصویر بنانے کے پرانے فن کے بجائے سائنسی ترقی میں تصویر سازی کا ایک دقیق طریقہ ایجاد کر لیا گیا ہے، جب شارع نے تصویر حرام قراردیا ہے تو تصویر سازی کے لیے خواہ کیسا بھی طریقہ اپنایا جائے تصویر بہر حال حرام ہی رہے گی، بلکہ ہاتھ سے تصویر سازی میں وہ قباحتیں اور برائیاں نہیں تھیں جو ٹی وی اور ویڈیو فلم نے پیدا کردی ہیں۔
ٹی وی اور ویڈیو کیسٹ کے ذریعے ہر گھر سنیما گھر بن گئے ہیں ، اور یہ بات معقول بھی نہیں کہ شارع ہاتھ کی تصویروں کو حرام قراردے ، اس کے بنانے والے کو ملعون اور قیامت کے دن سب سے زیادہ عذاب میں مبتلا ہونے والا بتائے(۱) ، اور فواحش وبے حیائی کے اس طوفان کو جسے ہم عرف میں ٹی وی کہتے ہیں حلال اور جائز قرارد ے۔
رہے اس کے کچھ فوائد تو وہ بھی شراب وجوئے کے فوائد کی طرح قابلِ قبول نہیں ہیں اس لیے گھر میں ٹی وی رکھنا ، دیکھنا اور دکھانا سب شرعاً ممنوع و ناجائز ہے۔(۲)
نوٹ :…کسی عالمِ دین یا مقتداء کا ٹی وی پر آنا اس کے جواز کی دلیل نہیں بن سکتا ، کیوں کہ جواز وعدم کی دلیل کتاب اللہ ، سنتِ رسول اللہ ، اجماعِ امت اور قیاس ہے ، نہ کہ کسی کا عمل ۔
الحجة علی ما قلنا
(۱) ما في ’’ الصحیح للبخاري ‘‘ : [عن] عبد الله قال : سمعت النبي ﷺ یقول : ’’ إن أشد الناس عذاباً عند الله المصورون ‘‘ ۔
( ۸۸۰/۲، کتاب اللباس ، باب عذاب المصورین یوم القیامة)
(۲) ما في ’’ الشامیة ‘‘: بقاعدة فقهیة : ’’ ما کان سبباً لمحظور فهو محظور ‘‘۔(۲۳۳/۵، مکتبه نعمانیه)
ما في’’ البدائع ‘‘ : ’’ کل ما أدی إلی الحرام حرام ‘‘۔(۴۸۸/۶)
ما في ’’ المقاصد الشرعیة للخادمي ‘‘ :’’ إن الوسیلة أو الذریعة تکون محرمة إذا کان المقصد محرماً وتکون واجبة إذا کان المقصد واجباً ‘‘۔ (ص: ۴۶)
