پانی میں ڈوب کر مرے ہوئے شخص کو غسل دیا جائیگا یا نہیں؟

مسئلہ:

اگر کوئی شخص پانی میں ڈوب کر مرجائے، اور پانی زیادہ ہونے کی وجہ سے کافی کوشش کے باوجود نعش نہ ملی، پھر چند روز کے بعد نعش اوپر آئی تو اس میں تعفن پیدا ہوگیا، مگر نعش پھولی پھٹی نہیں ہے تو اس کو غسل دیا جائے گا، اور نماز بھی پڑھی جائے گی(۱)،کیوں کہ پانی میں ڈوبنا غسل کیلئے کافی نہیں ہے، بلکہ غسل میں فعل غسل کا پایا جانا ضروری ہے، اور وہ زندوں کی طرف سے نہیں پایا گیا(۲)، ہاں اگر نکالتے وقت غسل کی نیت سے میت کو تین بار پانی میں حرکت دیدی جائے تو یہ غسل کیلئے کافی ہوجائیگا(۳)، اور اگر نعش پھول پھٹ گئی ہے کہ بدن کو ملنا متعذر ہے تو ایسی صورت میں نعش پر صرف پانی بہا دینا کافی ہے(۴)، اور اس پر نمازِ جنازہ نہیں پڑھی جائے گی، کیوں کہ نمازِ جنازہ بدن پر مشروع ہے، اور اس کے پھٹ جانے کی صورت میں وہ باقی نہ رہا ۔(۵)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” مراقی الفلاح مع الطحطاوي “ : یغسل ویصلی علیه ما لم یتفسخ۔(ص/۲۱۶ ، أحکام الجنائز ، فصل السلطان أحق بصلوٰته)

(۲) ما فی ” منحة الخالق علی البحر الرائق “ : عن محمد وأبی یوسف: یفید أن الفرض فعل الغسل منا۔۔۔۔۔۔۔لو وجد المیت فی الماء لا بد من غسله، لأن الخطاب یتوجه إلی بنی آدم ولم یوجد منهم فعل، فالحاصل أنه لا بد فی إسقاط الواجب من الفعل، وأما النیة فشرط لتحصیل الثواب۔

(۳۰۵/۲، کتاب الجنائز، الفتاوی الولوالجیة:۱۵۹/۱، الفصل الثالث عشر فی الجنائز، الشامیة : ۸۷/۳، باب صلوٰة الجنائز)

(۳) ما فی ” الفقه الإسلامي وأدلته “ : ویجزی الغسل بدون نیة لکن یجب غسل الغریق ، فیحرک فی الماء بنیة الغسل ثلاثاً لأنا مأمورون بغسل المیت ، لکن قال الحنفیة : النیة لیست لصحة الطهارة ۔ (۱۴۸۷/۲ ، الدر المختار مع الشامیة :۸۷/۳،باب صلوٰة الجنائز)

(۴) ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : ولو کان المیت متفسخاً یتعذر مسحه کفی صب الماءعلیه کذا فی التاتارخانیة ناقلا عن العتابیة ۔

(۱۵۸/۱ ، الفصل الثانی فی الغسل،الفتاوی التاتارخانیة : ۵۹۱/۱ ، الفصل الثانی والثلاثون فی الجنائز ، فی بیان الأسبابالمسقطة تغسل المیت)

(۵) ما فی ” حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح “ : فإن تفسخ لا یصلی علیه مطلقًا لأنها شرعت علی البدن ولا وجود له مع التفسخ ۔

(ص/۵۹۲ ، أحکام الجنائز ، فصل السلطان أحق بصلوٰته)

(فتاوی محمودیه:۶۲۷/۸، فتاوی رحیمیه :۵۷/۷)

اوپر تک سکرول کریں۔