مسئلہ:
آج کل عام شہروں میں گھروں کے اندر غسل خانوں وغیرہ میں پانی پہنچانے کیلئے پائپ سسٹم کا رواج ہے، جیسا کہ خود ہمارے جامعہ میں اس کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے، جس کا طریقہٴ عمل یہ ہے کہ بورنگیں چالو کی جاتی ہیں، جس سے ٹنکیوں میں پانی پہنچ جاتا ہے، پھر ان ٹنکیوں کے ذریعہ یہ پانی مختلف جگہوں میں پہنچایا جاتا ہے، عام طور پر یہ ٹنکیاں دہ در دہ (جس کا کل رقبہ یعنی طول وعرض کا حاصلِ ضرب سو ذراع برابر ۲۲۵/ اسکوائر فٹ ہو) سے کم ہوتی ہیں، اگر ان میں نجاست ایسی حالت میں گری ہے کہ اس کا پانی دونوں طرف سے جاری ہے، مثلاً بورنگ کے ذریعہ ایک طرف سے پانی چڑھایا جارہا ہے اور دوسری طرف پائپ کے ذریعہ غسل خانوں ، بیت الخلاء وغیرہ میں پانی نکالا جارہا ہو تو اکثر فقہاء کرام کے نزدیک اس وقت یہ ٹنکیاں ماء جاری کے حکم میں ہونے کی وجہ سے اس وقت تک ناپاک نہیں ہوں گی، جب تک پانی کے بنیادی تین اوصاف رنگ، بو اور مزہ میں سے کوئی ایک نہ بدل جائے،(۱) لیکن اگر یہ نجاست ٹنکی میں ایسے وقت گری کہ پانی دونوں طرف سے جاری تھا اور پھر کسی ایک طرف سے پانی کے بند ہونے کے بعد بھی اسی میں پڑی رہی، یا ایسے وقت گری کہ ان ٹنکیوں کا پانی دونوں طرف سے جاری نہ ہو ، دونوں طرف میں سے کسی ایک طرف سے بند ہو، مثلاً بورنگ کے ذریعہ پانی چڑھایا تو جارہا ہے مگر اس کا اخراج نہیں ہورہا ہے، یا اخراج ہورہا ہے مگر پانی نہیں چڑھایا جارہا ہے، بلکہ محض ٹنکی میں موجود پانی کا اخراج ہورہا ہے، تو ایسی صورت میں یہ ٹنکیاں ناپاک ہوجائیں گی،اور اگر یہ ٹنکیاں دہ دردہ ہیں تو ماء جاری کے حکم میں ہوں گی، اور ناپاکی گرنے کے بعد اس وقت تک ناپاک شمار نہ ہوں گی جب تک پانی کے تین وصفوں میں سے کوئی ایک وصف نہ بدل جائے، ان دونوں طرح کی ٹنکیوں کی پاکی کا طریقہ یہ ہوگا کہ اگر محسوس جسامت رکھنے والی ناپاکی گری ہے تو اسے ان ٹنکیوں سے نکال دیا جائے، پھر ان کو دونوں طرف سے جاری کردیا جائے، دوسری طرف سے پانی نکلتے ہی یہ ٹنکیاں پاک ہوجائیں گی، پانی کی کسی خاص مقدار کا نکالنا ضروی نہیں ہے، البتہ بعض فقہاء کرام کے نزدیک احتیاطاً تین مرتبہ اور بعض کے ہاں ایک مرتبہ حوض یا ٹنکی کا پانی بھر کر نکال دینا ضروری ہے،(۲) اس لئے احتیاط اس میں ہے کہ ایک طرف سے پاک پانی داخل کرکے دوسری طرف سے اتنا پانی نکال دیا جائے جتنا کہ وقوعِ نجاست کے وقت اس حوض یا ٹنکی میں موجود ہے، اس کے بعد حوض یا ٹنکی اور اس کے پائپ کو پاک سمجھا جائے ، اور اگر تھوڑا سا پانی نکل جانے کے بعد بھی استعمال کرلیا جائے تو قول مختار کے موافق گنجائش ہے۔(۳)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” نور الإیضاح “ : أو جاریاً وظهر فیه أثرها والأثر طعم أو لون أو ریح۔(ص:۲۶، کتاب الطهارة)
(۲) ما فی ” شرح المنیة عن فتاوی قاضی خان “ : فإن أدخل یده فی الحوض وعلیها نجاسة إن کان الماء ساکنا لا یدخل فیه شيء من انبوبه، ولا یغترف إنسان بالقصعة یتنجس ماء الحوض وإن کان الناس یغترفون من الحوض بقصاعهم ولا یدخل من الانبوب ماء أو علی العکس اختلفوا فیه وأکثرهم علی أنه یتنجس ماء الحوض وإن کان الناس یغترفون بقصاعهم ویدخل فیه من الأنبوب اختلفوا فیه وأکثرهم علی أنه یتنجس، انتهی، فهذا هو الذی ینبغی أن یعتمد علیه۔ (شرح المنیة :ص:۹۹)
(۳) ما فی ” شرح المنیة “ : فإن دخل الماء من جانب حوض صغیر کان قد تنجس مائه فخرج من جانب قال أبوبکر بن سعد الأعمش: لا یطهر ما لم یخرج مثل ما کان فیه ثلاث مرات فیکون ذلک غسلا له کالقصعة حیث تغسل إذا تنجست ثلاث مرات، وقال غیره لا یطهر ما لم یخرج مثل ما کان فیه مرة واحدة، وقال أبوجعفر الهندوانی: یطهر بمجرد الدخول من جانب والخروج من جانب وإن لم یخرج مثل ما کان فیه، وهو أی قول الهندوانی اختار صدر الشهید حسام الدین لأنه حینئذ یصیر جاریاً والجاری لا ینجس ما لم یتغیر بالنجاسة، والکلام فی غیر متغیر انتهیٰ۔(شرح المنیة : ص : ۹۹) (بحواله آلات جدیده کے شرعی احکام :ص ۱۸۵)
ما فی ” الدر المختار مع الشامیة “ : ثم المختار طهارة المتنجس بمجرد جریانه، وکذا البئر وحوض الحمام۔ (الدر المختار) قال الشامی: قوله: (بمجرد جریانه) أی بأن یدخل من جانب ویخرج من آخر حال دخوله وإن قل الخارج ۔ بحر ۔ قال ابن الشحنة: لأنه صار جاریاً حقیقة، وبخروج بعضه رفع الشک فی بقاء النجاسة فلا تبقی مع الشک، وقیل: لا یطهر حتی یخرج قدر ما فیه، وقیل ثلاثة أمثاله۔ (۳۴۵/۱، کتاب الطهارة، باب المیاه، مطلب یطهر الحوض بمجرد الجریان)
(فتاوی عثمانی: ۳۶۰/۱، جواهر الفقه: ۱۸۳/۵)
