مسئلہ:
پانی کی نکاسی کا نظام بنانا اور شہریوں کی صحت کا خیال رکھنا یہ حکومت کی ذمہ داری ہے، اور عوام کا فریضہ ہے کہ وہ حکومت کے ایسے نظام وقوانین کا پورا لحاظ رکھیں، نیز اخلاقی طور پر ہر شخص اس کا مکلف و پابند ہے کہ اپنے مستعمل پانی کی نکاسی کا ایسا انتظام کرے کہ پڑوسی، محلہ اور آبادی کی فضا آلودہ نہ ہو۔
الحجة علی ما قلنا :
ما فی ” بدائع الصنائع “ : ونلاحظ بأن إصلاح الأنهار والمساقی والمصارف العامة علی الخزینة (أی بیت المال) أو وزارة المالیة، لأن منفعتها للناس، فکانت موٴونتها من بیت المال۔ (۱۹۲/۶)
ما فی ” الفقه الإسلامی وأدلته “ : حق المسیل هو تصریف الماء الزائد عن الحاجة أو غیر الصالح إلی المصارف والمجاری العامة بواسطة مجری سطحی أو أفیوب مستور، سواء من أرض أو مصنع ۔۔۔۔۔ وتجب نفقات إصلاح المسیل علی المنتفع به إذا کان فی ملکه أو فی ملک غیره، فإن کان فی أرض عامة فنفقة الإصلاح علی بیت المال۔
(۴۶۷۶/۶، المطلب الرابع حق المسیل)
ما فی ” فتاوی معاصرة “ : فکل ما یری ولی الأمر فعله أقرب إلی الصلاح للرعیة، وأبعد عن الفساد، فله أن یفعله، بل قد یجب علیه۔
(۵۸۳/۱، تدخل الدولة لتحدید أجور العمال)
(تجاویز بیسواں فقهی سیمنار اسلامک فقه اکیڈمی انڈیا: ۲۰۱۱ء)
