مسئلہ:
بہت سے طلباء تعطیلات کے موقع پرپرائیوٹ گاڑیاں کرایہ پر کرتے ہیں اور چھوٹے بڑے بچو ں سے یکساں کرایہ وصول کرتے ہیں، اگر کرایہ کا یہ معاملہ خود صبی ممیزیا اس کا سرپرست طالب علم کرتاہے تو جائز ہے ،اور اگر صبی غیر ممیز یاغیر سرپرست طالب علم کرتاہے تو جائز نہیں ہے۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’ الموسوعة الفقهیة ‘‘: إجارة الصبي الممیز نفسه بأجر لا غبن فیه تصح إن کان ماذونا له من ولیه ۔ (۲۵۸/۱)
ما في ’’الفتاوی الهندیة ‘‘: وإجارة الـوکیل نافذة لوجود الولایة وکذلک الإجارة من الأب والوصي والقاضي وأمینه نافذة لوجود الإنابة من الشرع ۔
(۴۱۱/۴، مطلب من أنواع الإجارة)
