پرانی مسجد کا سامان فروخت کرنا

مسئلہ:

جب کسی پرانی مسجد کو توڑ کر نئی مسجد تعمیر کی جائے ، تو پرانی مسجد کا جو سامان نئی مسجد کی تعمیر میں کار آمد نہ ہو، اُس کو فروخت کرکے اُس کی قیمت سے نئی مسجد کی تعمیر میں کار آمد سامان خریدنا ، جائز ہے، اور جو سامان پرانی مسجد کا فروخت کیا جائے، بہتر یہ ہے کہ کسی مسجد ہی کے کام میں اس کو لگایا جائے، یعنی خریدنے والا یہ سامان کسی ضرورت مند مسجد میں وقف کردے، لیکن اگر وہ ایسا نہیں کرتا، اور اس سامان کو وہ اپنے رہائشی مکان وغیرہ میں استعمال کرتا ہے، تو اس کی بھی گنجائش ہے۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” البحر الرائق “ : (ویصرف نقضه إلی عمارته إن احتاج وإلا حفظه للاحتیاج ولا یقسمه بین مستحقي الوقف) ۔۔۔ قال في الهدایة: وإن تعذر إعادته عینه إلی موضعه بیع وصرف ثمنه إلی المرمة صرفًا للبدل إلی مصرف المبدل، وظاهره أنه لا یجوز بیعه حیث أمکن إعادته ۔۔۔۔ وفي الحاوي: فإن خیف هلاک النقض باعه الحاکم وأمسک ثمنه لعمارته عند الحاجة، فعلی هذا یباع النقض في موضعین عند تعذر عوده وعند خوف هلاکه۔ (۳۶۷/۵۔۳۶۸، کتاب الوقف، الهدایة:۶۴۲/۲، کتاب الوقف)

ما في ” فتاوی سراجیة علی هامش الخانیة “ :حشیش المسجد إذا بلی واستغنی الناس عنه قال السمرقندیون لأهل المسجد أن یبیعوه، وکذلک الجنائز ونحو ذلک إذا فسد، والمختار أنه لیس لهم ذلک إلا بأمر القاضي۔(۲۲/۳، کتاب الکراهیة، باب البیع والشراء)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : لا حرمة لتراب المسجد إذا جمع وله حرمة إذا بسط۔(۳۲۱/۵، کتاب الکراهیة، الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة الخ)

(فتاوی محمودیہ:۴۸۱/۲۱)

اوپر تک سکرول کریں۔