مسئلہ:
حکومت اپنے ملازمین کی تنخواہوں سے ماہانہ کچھ رقم پراویڈنٹ فنڈ (Provident Fund) کے نام سے جبراً کاٹ لیتی ہے، اور اتنی ہی رقم اس میں شامل کرکے ملازمین کے نام سے اپنی تحویل میں رکھتی ہے، اور یہ رقم نوکری چھوڑنے پر انہیں ادا کردی جاتی ہے، اس پوری رقم کا لینا حلال ہے، کیوں کہ اس میں نصف رقم خود ملازم کی ہے، اور نصف حکومت کی طرف سے انعام ہے(۱)، فی الحال اس رقم پر زکوٰة واجب نہیں ہے، کیوں کہ اس پر ملازم کا قبضہ نہ ہونے کی وجہ سے ملکیت ، ملکیتِ تامہ نہیں ہے، جو وجوبِ زکوٰة کا سبب ہے(۲)، البتہ جب یہ رقم مل جائے تو اس پر سال گذر جانے کے بعد زکوٰة واجب ہوگی(۳) ،سالہائے گذشتہ کی زکوٰة واجب نہیں ہوگی(۴)،مگر احتیاط وتقویٰ یہ ہے کہ ہر سال اپنی وضع شدہ رقم سے زکوٰة ادا کردی جائے ۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” البحر الرائق“: قوله: (بل بالتعجیل أو بشرط أو بالاستیفاء أو بالتمکن) یعنی لا یملک الأجرة إلا بواحدة من هذه الأربعة، والمراد أنه لا یستحقها المؤجر إلا بذلک،کما أشار إلیه القدوری فی مختصره، لأنها لوکانت دیناً لا یقال إنه ملکه المؤجر قبل قبضه، وإذا استحقها المؤجر قبل قبضها فله المطالبة بها وحبس علیها وحبس العین عنه، وله حق الفسخ إن لم یعجل له المستأجر،کذا فی المحیط، لکن لیس له بیعها قبل قبضها۔(۵۱۱/۷، کتاب الإجارة، الفتاوی الهندیة :۴۱۳/۴، کتاب الإجارة، الباب الثاني)
(۲)ما فی ” الدر المختار مع الشامي“ : (وسببه) أی سبب افتراضها (ملک نصاب حوليّ تام) بالرفع صفة ملک خرج مال المکاتب۔در مختار۔قال الشامی تحت قوله: (خرج مال المکاتب)أی خرج بالتقیید به، لأن المراد التام المملوک رقبةً ویداً ،وملک المکاتب لیس بتام لوجود المنافی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ قلت : وخرج أیضاً نحو المال المفقود و الساقط فی بحر ومغصوب لابینة علیه فلا زکوٰة علیه، لأنه وإن کان مملوکاً له رقبة لکن لا ید له علیه کما أفاده فی البدائع۔ (۱۶۴/۳، کتاب الزکاة ، البحرالرائق:۳۵۵/۲، کتاب الزکاة)
ما فی ” التجرید “ : قال أصحابنا : لا زکوٰة في المال المجحود والمال المغصوب، لنا: ما روی أن عثمان خطب فقال: لا زکوٰة فی مال ضمار، وعن ابن عمر: إنما الزکاة فی الدین الذی إذا اقتضیته أمکنک أخذه، ولا یعرف لهما مخالف، ولأنه خارج من یده ممنوع من الانتفاع به، فلا یجب علیه زکوٰته لما مضی کرقبة المکاتب بعد العجز ومال المکاتب۔
(۱۱۹۹/۳ ، رقم المسئلة :۳۱۰ ، لا زکوٰة فی المال المجحود والمال المغصوب ، الفتاوی التاتارخانیة :۳/۲، مجمع الأنهر:۲۸۵/۱، کتاب الزکاة، الفتاوی الهندیة:۱۷۵/۱، کتاب الزکاة)
(۳) ما فی ” الدر المختار “ : (وسببه) أی سبب افتراضها (ملک نصاب حولی تام)۔(۱۶۴/۳، کتاب الزکوٰة)
(۴) ما فی ” فتح القدیر “ : روی ابن أبی شیبة فی مصنفه عن عمرو بن میمون قال: أخذ الولید بن عبد الملک مال رجل من أهل الرقة یقال له أبو عائشة، عشرین ألفاً، فألقاها فی بیت المال، فلما ولّی عمر بن عبد العزیز أتاه ولده فرفعوا مظلمتهم إلیه ، فکتب إلی میمون أن ادفعوا إلیهم أموالهم وخذوا زکوٰة عامهم هذا۔(۱۷۵/۲،کتاب الزکوٰة)
(فتاوی محمودیه:۹/۴۰۴)
