پولٹری فارم (Poultry Farm) کی مرغیوں کی غذا

مسئلہ:

بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ پولٹری فارم (Poultry Farm) کی مرغیوں کی جس دانہ سے پرورش ہوتی ہے، وہ دانہ خنزیر کی چربی سے تیار ہوتا ہے، اسی لیے وہ چالیس دنوں میں اتنی صحت مند ہوجاتی ہیں، اور یہ دانہ بیرونی ممالک سے در آمد کیا جاتا ہے، اس لیے ان کا کھانا حلال نہیں ہے، اُن کی یہ بات درست نہیں ہے، کیوں کہ اس دانہ کی وجہ سے گوشت میں کوئی تغیر نہیں ہوتا، اور نہ ہی اس دانہ کا کوئی اثر باقی رہتا ہے، بلکہ وہ نیست ونابود ہوجاتا ہے، اس لیے ان کاکھانا حلال ہے، ہاں! اگر اِس دانہ کی وجہ سے گوشت متغیر ہوجائے، اس کی اصلی وفطری بُو بدل جائے، تو پھر اُسے اس وقت تک کھانا درست نہ ہوگا، جب تک کہ ذبح سے پہلے کم از کم تین روز اسے حلال وپاک غذا نہ دی جائے، ورنہ درست نہ ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : وتحبس الجلالة حتی یذهب نتن لحمها، وقدر بثلاثة أیام لدجاجة، وأربعة لشاة، وعشرة لإبل وبقر علی الأظهر، ولو أکلت النجاسة وغیرها بحیث لم ینتن لحمها حلت کما حل أکل جدي غذي بلبن خنزیر، لأن لحمه لا یتغیر، وما غذي به یصیر مستهلکًا لا یبقی له أثر ۔ در مختار ۔ وفي الشامیة: قوله: (لأن لحمه لا یتغیر الخ) کذا في الذخیرة۔ وهو موافق لما مرّ أن المعتبر النتن ۔۔۔۔ وفي شرح الوهبانیة عن القنیة راقمًا أنه یحلّ إذا ذبح أیام، وإلا لا۔

(۴۱۴/۹۔۴۱۵، کتاب الحظر والإباحة، ط: دیوبند، کذا في البحر الرائق:۳۳۵/۸، کتاب الکراهیة، فصل في الأکل والشرب، ط: بیروت)

ما في ” الفتاوی الهندیة “ : الجدي إذا کان یربی بلبن الأتان والخنزیر إن اعتلف أیامًا فلا بأس، لأنه بمنزلة الجلالة، والجلالة إذا حبست أیامًا فعلقت لا بأس بها، فکذا هذا ۔ کذا في الفتاوی الکبری ۔ (۲۹۰/۵، کتاب الذبائح، الباب الثاني في بیان ما یؤکل من الحیوان وما لا یؤکل)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ : ۲۹۶۶۸)

اوپر تک سکرول کریں۔