پولیو ٹیکہ(Vaccines) کے استعمال کا شرعی حکم!

(فتویٰ نمبر: ۲۷)

سوال:

آج کل مہلک سے مہلک امراض کا خوف روز بروز دنیا کو اپنی لپٹ میں لیتا دیکھ کرتنظیم برائے صحت (WHO) مختلف قسم کے ویکنس (Vaccines)اور ٹیکے ایجاد کرتی ہے، جس میں بعض ادویہ ضرر رساں ہیں، ان میں امراضِ اطفال میں پولیو (Polio) کے مرض پر قابو کے لیے مختلف قسم کے ویکنس (Vaccines)حکومت کی نگرانی میں ملک بھر میں اہتمام سے گھر جا جا کر بچوں کو پلائے جاتے ہیں، تاکہ بیماری نیست ونابود ہوجائے، مگر پریشان کن بات یہ ہے کہ پیشِ خدمت مضمون (اخبار کے ان تراشوں کی طرف اشارہ ہے جن میں پولیو ٹیکہ کا ضرر رساں ہونا ثابت کیا گیا) سے معلوم ہوتا ہے کہ پولیو ویکنس (Polio Vaccines)بجائے نفع رساں کے ضرر رساں ہے، نیز مختلف خطرناک مہلک امراض کی دعوت دیتا ہے، لہٰذا پولیو(Polio) کا استعمال درست ہے یا نہیں؟

یہ سوال ہم نے ۱۴۲۸ھ میں ایک جگہ بذریعہٴ فیکس اور ڈاک روانہ کیا،مگر جواب ندارد، پھر بذریعہٴ فون یہ جواب موصول ہوا ”یہ سوال یہاں تھوڑی پوچھنے کا ہے؟ دارالافتا سے پوچھو “؛ اس لیے ہم آپ سے رابطہ قائم کررہے ہیں، اُمید قوی ہے کہ ان شاء اللہ جواب جلدازجلد اور صحیح موصول ہوگا، صحیح رہبری فرماکر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں!

الجواب وباللہ التوفیق:

فرمانِ خداوندی ہے:

” اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں تباہی میں مت ڈالو۔“ (۱)

دوسری جگہ ارشاد ہے:

” اور تم ایک دوسرے کو قتل بھی مت کرو،بلا شبہ اللہ تم پر بڑے مہربان ہیں۔“(۲)

اسی طرح اسامہ بن شریک سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد منقول ہے:

 ”اللہ تعالیٰ نے کوئی بیماری نہیں رکھی مگر اس کے لیے ایک دوا رکھی ہے، سوائے ایک بیماری کے اور وہ بڑھاپا ہے۔“(۳)

ایک دوسری حدیث شریف میں حضرتِ ابودردا رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:

”بے شک اللہ تعالیٰ نے بیماری اور دوا کو اتارا، اور بیماری کی دوا رکھی، تو تم علاج کراوٴ، اور حرام سے علاج نہ کراوٴ۔“(۴)

اور ایک حدیثِ پاک میں حضرتِ جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

”ہر بیماری کی ایک دوا ہے، جب بیماری کو اس کی دوا ملتی ہے، تو اللہ کے حکم سے مریض اچھا ہوتا ہے۔“(۵)

ان آیاتِ قرآنیہ واحادیثِ نبویہ( علی صاحبہا الف الف تحیة وسلام) سے دوا وعلاج کرنا نہ صرف جائز بلکہ مستحب معلوم ہوتا ہے، یہی شافعیہ، علمائے سلف وخلف کی ایک جماعت اور احناف وجمہور مالکیہ کا مذہب ہے (۶)،مگر دوا وعلاج اسی وقت مستحب ہے جب کہ وہ ایسی چیزوں کے ذریعے ہو، جن سے شفا ملنے کا غالب گمان ہو۔(۷)

اگر کسی دوا وٹیکہ کے متعلق غالب آرا وتحقیق یہ ہوں کہ اس کے فوائد کم اور نقصانات زیادہ ہیں، یا وہ افزائشِ نسل میں مخل ہے،تو شرعاً اس کا استعمال ناجائز ہوگا،کیوں کہ فقہ کا قاعدہٴ مسلمہ ہے:

”دفعِ مفاسد تحصیلِ منافع سے اَولیٰ ہے۔“(۸)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وَلاَ تُلْقُوْا بِأَیْدِیکُمْ إِلَی التَّهلُکَةِ﴾ ۔ (سورة البقرة : ۱۹۵)

(۲) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿وَلاَ تَقْتُلُوْا أَنْفُسَکُمْ إِنَّ اللّٰه کَانَ بِکُمْ رَحِیْمًا﴾۔(سورة النساء : ۲۹)

(۳) ما في ” السنن لأبي داود “ : (عن أسامة بن شریک) : ” تداووا فإن اللّٰه لم یضع داءً إلا وضع له دواءً غیر داءٍ واحدٍ الهرم “۔

(ص/۵۳۹ ، أول کتاب الطب، باب الرجل یتداوي ، عون المعبود : ۱۰/ ۱۸۸، ط : دار إحیاء التراث العربي بیروت ، جامع الترمذي :۲۴/۲ ، أبواب الطب ، باب ما جا في الدواء والحث علیه ، سنن ابن ماجة : ص/۲۴۵ ، أبواب الطب ، باب ما أنزل اللّٰه داءً إلا أنزل له شفاءً)

(مشکوة المصابیح :۱/ ۳۸۸ ، کتاب الطب والرقی ، الفصل الثاني)

(۴) ما في ” السنن لأبي داود “ : عن أبي الدرداء قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” إن اللّٰه أنزل الداء والدواء وجعل لکل داءٍ دواءً ، فتداووا ولا تتداووا بحرامٍ “ ۔

(ص/۵۴۱ ، باب في الأدویة المکروهة)

(۵) ما في ” الطب النبوي لابن القیم “ : عن جابر عن النبي ﷺ : ” لکل داءٍ دواءٌ، فإذا أصیب دواء الداء برئ بإذن اللّٰه عز وجل “ ۔ (ص/۱۳)

(۶) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : الاشتغال بالتداوي لا بأس به إذا اعتقد أن الشافي هو اللّٰه تعالی ، وأنه جعل الدواء سببًا ۔ (۳۵۴/۵)

(۷) (القضایا الطبیة المعاصرة : ص/۱۹۵)

(۸) ما في ” الأشباه والنظائر لابن نجیم “ : درء المفاسد أولی من جلب المصالح۔ (۱/ ۳۲۲)

(قواعد الفقه : ص/۸۱) فقط

 والله أعلم بالصواب

کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۲/۲۷ھ

اوپر تک سکرول کریں۔