مسئلہ:
قربانی کی کھال فروخت کر نے کے بعد جو رقم قیمت کے طور پر ملتی ہے وہ صدقہ کر د ینا واجب ہے اور صدقہ کی حقیقت یہ ہے کہ جس کو دیا جائے وہ مالک بن جائے، چو نکہ مسجد میں تملیک نہیں پائی جاتی اس لیے قربانی کی کھال کی رقم مسجد کی تعمیر اور امام و موذن اور خادم وغیرہ کی تنخواہ ،اسی طرح قبر ستا ن یا مسجد کی چہار دیواری بنانے میں صرف کر نا جائز نہیں ۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘: {إنما الصدقات للفقراء والمساکین والعاملین علیها والمؤلفة قلوبهم وفي الرقاب والغارمین وفي سبیل الله وابن السبیل} ۔ (التوبة:۶۰)
ما في ’’أحکام القرآن للجصاص‘‘: وقال الإمام الجصاص: فإن الصدقة تقتضي تملیکا وقال: إذ شرط الصدقة وقوع الملک للمتصدق علیه ۔ ( ۱۶۱/۳)
ما في ’’نتائج الأفکار تکملة فتح القدیر‘‘: وقال ابن ھمام: الصدقة کالھبة لا تصح إلا بالقبض۔ (۵۷/۹)
ما في ’’المغني والشرح الکبیر‘‘: وروي عن ابن عمر رضي الله عنه أنه یبیع الجلد ویتصدق بثمنه ۔ (۱۱۲/۱۱)
ما في ’’ الدر المختار مع الشامیة ‘‘: ولا یعطی أجر الجزار منھا لأنه کبیع لأن کلا منھما معاوضة لأنه إنما یعطی الجزار بمقابلة جزره ۔ (۳۹۸/۹)
(فتاوی محمودیه : ۱۷/ ۴۵۸)
