چچازاد بھتیجی سے نکاح کرنا شرعاً کیسا ہے ؟

(فتویٰ نمبر: ۱۲۰)

سوال:

زید اور عمر دو بھائی ہیں، زید بڑا ہے اور دونوں کو ایک ایک بیٹا ہے، زید کے بیٹے کا نام بکر اور عمر کے بیٹے کا نام خالد ہے ، اب بکر اورخالد دونوں چچازاد بھائی ہوئے، اور بکر کی ایک بیٹی ہے، جو خالد کی چچازاد بھتیجی ہوئی، تو کیا خالد اپنی چچازاد بھتیجی سے نکاح کرسکتا ہے یا نہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

سوال میں مذکور بکر کی لڑکی خالد کی چچازاد بھتیجی ہے، او ر جب چچازاد بہن سے نکاح جائز ہے، تو چچازاد بھتیجی سے بدرجہٴ اولیٰ جائز ہوگا۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” أحکام القرآن للجصاص “ : وخص اللّٰه تعالی العمات والخالات بالتحریم دون أولادهن، ولا خلاف في جواز نکاح بنت العمة وبنت الخالة ۔

(۱۵۶/۱، باب ما یحرم من النساء تحت قوله : (وخالاتکم)، کذا في فتح القدیر: ۱۱۹/۳، کتاب النکاح، فصل في بیان المحرمات)

ما في ” رد المحتار “: وخالة خالة أبیه فحلال، کبنت عمه وعمته وخاله وخالته ، لقوله تعالی:﴿وأحل لکم ما ورآء ذلکم﴾۔

(سورة النساء:۲۴)۔(۱۰۳/۴ ، ۱۰۴، کتاب النکاح، فصل في المحرمات)

(النتف في الفتاوی : ص/۱۶۳ ، کتاب النکاح ، الحرمة الموٴبدة بالنسب)

ما في ” بدائع الصنائع “ : وبنات الأعمام والعمات والأخوال والخالات لم یذکرن في المحرمات ، فکن مما وراء ذلک فکن محللات ۔

(۴۱۱/۳ ، کتاب النکاح ، فصل في المحرمات بالقرابة)

(فتاویٰ دار العلوم دیوبند: ۲۰۷/۷،کتاب النکاح، مسائل متعلقاتِ نکاح) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۷/۲۷ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔