چھوٹے بچوں کو موبائل فون دلانا

مسئلہ:

آج کے اس دورِ جدید میں جب کہ موبائل یا سیل فون، ہر چھوٹے بڑے کی ضرورت بن چکا ہے، اپنے دوستوں اور ہم جماعتوں کو دیکھ کر چھوٹے بچوں میں بھی موبائل فون لینے کا رَواج بڑھتا جارہا ہے، بارہ سال سے بھی کم عمر کے بچوں کے ہاتھوں میں اسے دیکھا جارہا ہے، اور ان چھوٹے بچوں کو موبائل دینا، دلانا، پیار ومحبت کا اظہار سمجھا جارہا ہے، اور جو والدین ایسا نہیں کرتے انہیں کنجوس، سخت دل اور بچوں سے بے پرواہ گردانا جارہا ہے، حالانکہ بچوں کو موبائل دینے ، دلانے میں بہت سی دینی ، اخلاقی ، تعلیمی اور تربیتی خرابیوں کے ساتھ ساتھ ، ان کی صحت پر بھی اس کے بڑے مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں، جیسا کہ طبی ماہرین نے اپنی نئی تحقیق میں والدین کو اس سے خبردار کیا ہے کہ بارہ سال سے کم عمر کے بچوں کو موبائل فون دینا خطرناک ہوسکتا ہے، کہ اس سے نکلنے والی شُعاعیں ان معصوموں کے لیے مضر ثابت ہوسکتی ہیں، لہٰذا والدین ان خرابیوں کے پیش نظر اپنے چھوٹے بچوں کو موبائل فون نہ دیں(۱)، اور ان بچوں کو ان کا واجب حق؛ یعنی اچھی تعلیم، اچھی تربیت اور اچھی صحت کا نظم کرنے میں پوری احساسِ ذمہ داری کا ثبوت دیں، ورنہ عند اللہ اس پر باز پرس ہوگی۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یا أیها الذین اٰمنوا قوآ أنفسکم وأهلیکم نارًا وقودها الناس والحجارة﴾ ۔ (سورة التحریم:۶)

ما في ” روح المعاني “ : وأخرج ابن المنذر والحاکم وصححه، وجماعة عن علي کرم الله تعالی وجهه أنه قال في الآیة: علّموا أنفسکم وأهلیکم الخیر وأدبوهم، والمراد بالأهل علی ما قیل: ما یشمل الزوجة والولد والعبد والأمة، واستدل بها علی أنه یجب علی الرجل تعلم ما یجب من الفرائض وتعلیمه لهولاء، وأدخل بعضهم الأولاد في الأنفس لأن الولد بعض من أبیه، وفي الحدیث: ” رحم الله رجلا قال: یا أهلاه صلاتکم صیامکم زکاتکم مسکینکم یتیمکم جیرانکم لعل الله یجمعکم معه في الجنة “۔ وقیل: إن أشد الناس عذابا یوم القیامة من جهل أهله۔(۲۳۲/۱۵، الجزء الثاني، سورة التحریم: الآیة/۶، معارف القرآن:۵۰۳/۸، سورة التحریم)

ما في ” صحیح البخاري “ : قال مجاهد : ” ﴿قوا أنفسکم وأهلیکم﴾ أوصوا أنفسکم وأهلیکم بتقوی الله وأدّبوهم “۔ (۳۷۰/۲، کتاب التفسیر، التحریم)

ما في ” الموافقات في أصول الشریعة للشاطبي “ : ومجموع الضروریات خمسة: وهي حفظ الدین والنفس والنسل والمال والعقل۔

(۱۱/۲، کتاب المقاصد، النوع الأول، المسئلة الأولی)

(۲) ما في ” صحیح البخاري “ : عن ابن عمر رضي الله عنهما قال: سمعت رسول الله ﷺ یقول: ” کلکم راعٍ وکلکم مسؤول عن رعیته، الإمام راعٍ ومسؤول عن رعیته، والرجل راعٍ في أهله وهو مسؤول عن رعیته ۔۔۔۔ “ الحدیث ۔(۱۲۲/۱، کتاب الجمعة، باب الجمعة في القری والمدن، رقم:۸۹۳)

اوپر تک سکرول کریں۔