مسئلہ:
چھپکلی دو طرح کی ہوتی ہے، بڑی چھپکلی، چھوٹی چھپکلی، بڑی چھپکلی جو شہر میں نہیں بلکہ جنگل میں ہوتی ہے، اورو ہ بھی بعض علاقوں میں، اس میں خون ہوتا ہے، اگر وہ چھوٹے کنویں یا حوض میں گر کر مر جائے ، تو اس سے کنواں اور حوض ناپاک ہوجائے گا،(۱) اور اس چھپکلی کو نکالنے کے بعد، ۲۰/سے ۳۰/ ڈول پانی نکالنے سے کنواں پاک ہوجائے گا،(۲) اور اگر وہ پھول گئی سڑ گئی، تو پورا پانی نکالنا لازم ہوگا، اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو ۲۰۰ سے ۳۰۰/ ڈول پانی نکالنے سے کنواں پاک ہوجائے گا،(۳) اور جو چھپکلی عامةً گھروں کی چھتوں اور دیواروں پر ہوتی ہے وہ چھوٹی ہے، اگر وہ پانی میں گر گئی اور پھر نکال دی گئی تو وہ پانی پاک ہے،(۴) اس سے وضو اور غسل جائز ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” حلبی کبیر “ : وکذا الوزغة إذا کانت کبیرة، أی بحیث یکون لها دم، فإنها تفسد الماء، لما تقدم فی الضفدع ۔
(ص:۱۶۶، فصل فی البئر، فتاوی قاضی خان علی خامش الفتاوی الهندیة:۱۰/۱، فصل فی مایقع فی البئر، بهشتی زیور: ۷۷/۱، فتاوی محمودیه:۱۵۱/۵۔۱۵۲)
(۲) ما فی ” فتح القدیر “ : وإن ماتت فیها فأرة أو عصفورة أو صعوة أو سودانیة أو سام أبرص نُزح منها ما بین عشرین دلواً إلی ثلاثین بحسب کبر الدلو وصغرها، یعنی بعد إخراج الفأرة۔(۱۰۷/۱، الهدایة شرح بدایة المبتدی: ۲۷/۱، حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح: ص:۲۲، المکتبة الأشرفیة، نور الإیضاح :ص/۱۶، المکتبة العصریة بیروت)
(۳) ما فی ” الهدایة “ : فإن انتفخ الحیوان فیها أو تفسخ نُزح جمیع ما فیها صغُر الحیوان أو کبُر لإنتشار البلة فی أجزاء الماء۔۔۔۔۔۔۔ وعن محمد رحمه الله تعالی نزح مائتا دلو إلی ثلث مائة۔ (۲۸/۱، مکتبة دار أرقم بیروت)
ما فی ” نور الإیضاح “ : تنزح البئر الصغیرة۔۔۔۔۔ وبانتفاخ حیوان ولو صغیراً ومائتا دلوٍ لو لم یکن نزحها۔ (ص:۱۵، المکتبة العصریة بیروت)
ما فی ” حاشیة الطحطاوی علی مراقی الفلاح “ : وتنزح بانتفاخ حیوان أی دموي غیر مائي۔۔۔۔۔ ولو صغیراً۔ (ص:۲۱، المکتبة الأشرفیة)
(۴) ما فی ” بدائع الصنائع “ : أما الذی لیس له دم سائل ، فالذباب والعقرب والزنبور والسرطان ونحوها، وأنه لیس بنجس عندنا۔۔۔۔۔۔ولنا ما روی عن سلمان الفارسی رضی الله تعالی عنه عن رسول الله ﷺ أنه قال: موت کل حیوان لیس له نفس سائلة فی الماء لا یفسد۔(۳۶۸/۱ ، فصل أما الطهارة الحقیقة)
(خیر الفتاوی: ۱۵۱/۲)
