مسئلہ:
اسکول کی ایسی کتابیں جن میں تصاویر بنی ہوتی ہیں، یا ایسی ڈائجسٹ اور رسالے جن کے مضامین جھوٹ اور فحش گوئی وغیرہ سے پاک ہوں، ان کو محض مضمون نگاری سیکھنے یا معلومات کی غرض سے پڑھا جائے تو درست ہے، اور ایسی کتب ورسائل کی خرید وفروخت، اور ان سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حلال اور جائز ہے، تاہم ایسے رسائل اور کتابیں جن میں جھوٹی کہانیاں، من گھڑت باتیں اور اخلاق وحیا سوز مضامین ہوں، تو ان کا پڑھنا ، اور خرید وفروخت کرنا سب ناجائز ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” البزازیة علی هامش الهندیة “ : وبیع آلات اللهو کالبربط والطبل والمزمار والدّف جائز في قول أبي حنیفة، وقال صاحباه: لا یجوز، وکذلک بیع آلات اللعب کالنرد والشطرنج۔ (۱۳۴/۲، کتاب البیوع، فصل في البیع الباطل، الفتاوی الهندیة: ۴۴۹/۴، کتاب الإجارة، الباب السادس عشر ۔۔ الخ)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : (لا تصح الإجارة لعسب التیس) وهو نزوه علی الإناث (و) لا (لأجل المعاصي مثل الغناء والنوع والملاهي) ۔ الدر المختار ۔ وفي الشامیة: قوله: (والملاهي) کالمزامیر والطبل ۔ اه ۔
(۷۵/۹،کتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدة، مطلب في الاستئجار علی المعاصي، بیروت، المبسوط للسرخسي: ۳۷/۱۶۔۳۸، الاختیار لتعلیل المختار: ۳۱۸/۲، البحر الرائق: ۳۲/۸۔۳۴، الفتاوی الولوالجیة:۳۳۳/۳، نصب الرایة للزیلعي:۳۳۱/۴)
ما في ” مجمع البحرین “ : وتجوز أجرة الحمام والحجّام، لا عسب التیس، ولاتجوز علی المعاصي کالغناء والنوح۔ (ص:۳۸۶، کتاب الإجارة)
ما في ” النتف في الفتاوی للسغدي “ : قال: والإجارة الفاسدة علی أحد عشر وجهاً: أحدها: الإجارة علی المعاصي، وهو ۔۔۔۔ أو یستأجر النائحة أو المغنیة (لتنوح علی میته أو لتغني له) ولا أجرة علی المعاصي لا المسماة ولا المثل۔ (ص:۳۴۸، الإجارة الفاسدة)
(فتاویٰ بنوریه، رقم الفتویٰ:۹۰۹۱)
