مسئلہ:
رمضان المبارک کے قریب آتے ہی مختلف ادارے اور کاروباری لوگ اوقاتِ سحر وافطار کے کَیْلَنڈر چھپوانا شروع کردیتے ہیں، اور اپنے اپنے کاروبار کی تشہیر کے اشتہار نمایاں انداز میں دے دیتے ہیں، اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ ان کے کاروبار کی تشہیر ہو، تو اِس طرح کے کیلنڈروں کو مساجد میں آویزاں کرنے سے احتراز مناسب ہے، کیوں کہ مساجد کاروبار اور اس کی تشہیر کی جگہ نہیں ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” سنن ابن ماجة “: عن واثلة بن الأسقع أن النبي ﷺ قال:”جنبوا مساجدکم صبیانکم ومجانینکم وشرائکم وبیعکم وخصوماتکم“ ۔ (ص:۵۴ ، باب ما یکره في المساجد)
ما في ” الجامع لأحکام القرآن للقرطبي “ : وتصان المساجد أیضاً عن البیع والشراء وجمیع الأشغال، لقوله ﷺ للرجل الذی دعا إلی الجمل الأحمر: ” لا وجدت إنما بنیت المساجد لما بنیت له “۔ وهذا یدل علی أن الأصل ألا یعمل فی المسجد غیر الصلوات والأذکار وقراءة القرآن ۔ (۲۶۹/۱۲ ، سورة النور :۱۱۳)
ما في ” الهندیة “ :ذکر الفقیه رحمه الله تعالی في التنبیه حرمة المسجد خمسة عشر:۔۔۔۔۔۔والثالث:أن لا یشتری ولا یبیع۔(۳۲۱/۵ ،الباب الخامس في آداب المسجد والقبلة الخ)
(فتاویٰ دار العلوم دیوبند، رقم الفتویٰ :۱۶۰۰۹)
