(فتویٰ نمبر: ۱۶۸)
سوال:
۱-کافر کے پیسے سے عید گاہ وغیرہ بنانا کیسا ہے ؟
۲-کافر کی طرف سے جنریٹر (Generator)یا انورٹر(Inverter) لینا کیسا ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
۱۔ ۲/ کوئی غیر مسلم اپنے مذہب یا ذاتی اعتقاد کے اعتبار سے عیدگاہ کے لیے چندہ دینے یا مسجد کے لیے جنریٹر (Generator)وانورٹر(Inverter) دینے کو ثواب اور عملِ قُربت سمجھتا ہے، تو اس کا یہ عطیہ لینا جائز ہے، بشرطے کہ اس عطیہ سے مسلمان ان کے زیرِ احسان نہ ہوں، نہ ان کا سیاسی استحصال ہواور نہ ہی غیر مسلم اپنی مذہبی رسوم کے لیے مسلمانوں کی طرف سے اس طرح عطیہ کے خواہاں او ر متوقع ہوں۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : ان شرط وقف الذمي أن یکون قربة عندنا وعندهم کالوقف علی الفقراء ، وعلی مسجد القدس ، بخلاف علی بیعة فإنه قربة عندهم فقط ، أو علی حج أو عمرة فإنه قربة عندنا فقط ، فأفاد أن هذا شرط لوقف الذمي فقط ؛ لأن وقف المسلم لا یشترط کونه قربة عندهم بل عندنا کو قفنا علی حج وعمرة ۔
(۴۱۰/۶ ، کتاب الوقف ، قد یثبت الوقف بالضرورة)
ما في ” البحر الرائق “ : وأما الإسلام فلیس من شرطه ، فصح وقف الذمي بشرط کونه قربة عندنا وعندهم ۔ (۳۱۶/۵ ، کتاب الوقف)
ما في ” مجمع الأنهر “ : وأما الإسلام فلیس بشرط، فلو وقف علی بیعة فإذا خربت کان للفقراء لم یصح وکان میراثًا؛ لأنه لیس بقربة عندنا،کالوقف علی الحج والعمرة؛ لأنه لیس بقربة عندهم، بخلاف ما إذا وقف علی مسجد بیت المقدس فإنه صحیح ؛ لأنه قربة عندنا وعندهم ۔ (۵۶۸/۲ ، کتاب الوقف) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد : محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۱/۲۲ھ
