کرایہ دار کا مسجد کی زمین میں اصلاح کرکے کسی اور کو کرایہ پر دینا! بلااجازت مسجد کی زمین پر کرایہ دار کا پختہ عمارت بنانا! مسجدکی کمیٹی کے ممبران کیسے افراد ہونے چاہیے؟

(فتویٰ نمبر: ۱۲۵)

سوال:

۱-مکرانی مسجد کی ایک زمین عرفان نگر میں ہے، مسجد کمیٹی نے ۱۰x۱۰ زمین کے ٹکڑے بنا کر غریبوں کو ماہانہ ۳۰۰/ روپے کرایہ پر دیے، اب جس کے قبضہ میں زمین کا وہ حصہ موجود ہے وہ کسی دوسرے آدمی کو ۱۲۰۰/ روپیہ ماہانہ کرایہ پر دیتا ہے، اور یہ کہتا ہے کہ میں نے اس زمین پر دوکان بنائی، تو یہ ۹۰۰/ روپیہ اس دوکان کا کرایہ ہے ،کیا کسی کرایہ دار کے لیے یہ عمل جائز ہوسکتا ہے ؟

۲-مسجد کمیٹی نے زمین کرایہ پر دیتے وقت یہ شرط لگائی تھی کہ اس زمین پر پختہ عمارت نہیں بنائی جاسکتی ہے ،کچی عمارت بنانے کی اجازت ہے اور مسجد کمیٹی جب بھی خالی کرانا چاہے کراسکتی ہے، تو ایسی زمین پر پختہ عمارت بنائی جاسکتی ہے یا نہیں؟

۳-کیا کوئی سیاسی آدمی مسجد کا ممبر بن سکتا ہے یا نہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

     ۱-اگر کرایہ دار نے مسجد کی زمین کی کوئی اصلاح کی یا اس پر دوکان وغیرہ بنائی (جیسا کہ سوال میں مذکور ہے)، تو اس کے لیے دوسرے شخص کو اس کرایہ سے زائد کرایہ پر دینا جائزہے، جو وہ مسجد کمیٹی کو ادا کررہا ہے۔(۱)

۲-جب مسجد کمیٹی نے اپنی کرایہ پردی ہوئی زمین پر پختہ تعمیر سے منع کیا ہو، تو شرعاً بلااجازت پختہ تعمیر جائز نہیں، اگر کوئی کرایہ دار خلافِ معاہدہ پختہ تعمیر کرے تو وہ اس پختہ تعمیر کا مالک ہوگا، مگر مسجد کمیٹی کو اس کو گراکر اپنی زمین خالی کرانے کا حق حاصل ہے ، اگر مسجد کمیٹی اس پختہ تعمیر کی قیمت بصورتِ ملبہ دینے پر راضی ہو جائے ،تو اس صورت میں وہ اس عمارت کی مالک بن سکتی ہے(۲)، جس کی صورت یہ ہوگی کہ خالی زمین کی قیمت اور عمارت کے ساتھ قیمت معلوم کی جائے اور عمارت کی وجہ سے اصل زمین میں جو اضافہ ہورہا ہے وہ کرایہ دار کو ادا کردیا جائے۔

۳-مسجد کمیٹی میں ایسے افراد ہونے چاہیے جو صوم وصلوٰ ة کے پابند، امانت دار ،دین دار اور احکامِ وقف سے واقف ہوں ،خواہ وہ سیاسی ہوں یا غیر سیاسی۔(۳)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” النتف في الفتاوی “ : وإذا آجرها بأکثر مما استأجرها فإنه جائز في قول مالک والشافعي ، وفي قول أبي حنیفة وأصحابه لا یجوز ذلک ، إلا أن یزید شیئًا من عنده ، فإن زاد شیئًا من عنده ولو کان قلیلا جاز استزادة الأجرة ، قال محمد بن صاحب : لا تجوز استزادة الأجرة إلا بقدر ما زاد في ذلک الشيء ۔ ولو استأجرها بالدراهم ثم آجرها بالدنانیر أو بالکیلي أو بالوزني ، وکان أکثر قیمة من الدراهم جاز متفقًا ۔ وکذلک ما سوی ذلک ۔

(ص/۳۳۸ ، باب ما یجوز وما لا یجوز في الإجارة من الأحکام)

(الفتاوی الهندیة :۴۲۵/۴) (فتاویٰ محمودیه:۶۰۵/۱۶)

ما في ” البحر الرائق “ : وفي ” الجوهرة “ : المستأجر إذا آجر بأکثر مما استأجر تصدق بالفضل إلا إذا أصلح فیها شیئا أو آجرها بخلاف جنس ما استأجر ، والکنس لیس بإصلاح ۔(۵۱۸/۷ ، ط : دار الکتاب دیوبند)

(۲) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : قال العلامة الحصکفي رحمه اللّٰه : وتصح إجارة أرض للبناء والغرس وسائر الانتفاعات ۔۔۔۔۔۔۔۔ فإن مضت المدة قلعهما وسلمها فارغة لعدم نهایتهما إلا أن یغرم له الموٴجر قیمته أي البناء والغرس مقلوعًا بأن تقوم الأرض بهما وبدونهما فیضمن ما بینهما ۔ اختیار ۔ قال في البحر : هذا الاستثناء من لزوم القلع علی المستأجر ، فأفاد أنه لا یلزمه القلع لو رضي الموجر بدفع القیمة ۔(۳۵/۹ ،۳۶ ، کتاب الإجارة ، باب ما جاء في الإجارة وما یکون خلافًا فیها)

(البحر الرائق : ۲۰/۹ ، ۱۹ ، باب ما یجوز في الإجارة) (فتاویٰ محمودیه: ۱۷/ ۱۲۶)

(۳) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : قوله : (غیر مامون إلخ) قال في الإسعاف : ولا یولی إلا أمین ، قادر بنفسه ، أو بنائبه ؛ لأن الولایة مقیدة بشرط النظر ، ولیس من النظر تولیة الخائن ؛ لأنه یخل بالمقصود ۔(۴۵۳/۶ ، کتاب الوقف ، مطلب في شروط المتولي ، ط : بیروت)

(فتاویٰ رحیمیه:۶۹/۹) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۱۰/۱۹ھ

اوپر تک سکرول کریں۔