مسئلہ:
اگر کسی شعبہ اور ڈپارٹمنٹ کا ملازم جس کی تنخواہ اس ڈپارٹمنٹ کی طرف سے معلوم ومتعین ہے ، پھر بھی وہ اپنے کام کے عوض کسی شخص سے کوئی رقم لیتا ہے، مثلاً اسکول کا کلرک، جس کا کام یہ ہے کہ وہ طلباء اور ان کے سرپرستوں کو درکار کاغذات بنوادے، اور اسکول کی طرف سے اس کی تنخواہ بھی دی جاتی ہے، اس کے باوجود وہ طلباء یا ان کے سرپرستوں سے کچھ رقم کا مطالبہ کرے یا سرپرست از خود اس کام کے عوض ہی اس کو کچھ دیدیں اور وہ لے لے ، تو یہ رشوت ہے ، جس کا لینا اور دینا دونوں کام حرام ہیں ، اور رشوت لینے اور دینے والا دونوں جہنم میں جائیں گے۔
الحجة علی ماقلنا
ما في ’’ القرآن الکریم ‘‘: {یآیها الذین آمنوا لا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل} ۔(سورة النساء :۲۹)
ما في’’السنن الترمذي ‘‘: ’’ لعن رسول الله ﷺ الراشي والمرتشي ‘‘ ۔(۲۴۸/۱، أبواب الأحکام ، باب ما جاء فيالراشي والمرتشي)
ما في ’’ سبل السلام شرح بلوغ المرام لمحـمـد بـن إسمعـیل الصـنـعانـي ‘‘ : والــرشوة حرام بالإجماع سواء کانت للقاضي أو للعامل علی الصدقة أو لغیرهما وقد قال تعالی : {ولا تأکلوا أموالکم بینکم بالباطل وتدلوا بها إلی الحکام لتأکلوا فریقاً من أموال الناس بالإثم وأنتم تعلمون}۔[سورة البقرة:۱۸۸] وحاصل ما یأخذه القضاة من الأموال علی أربعة أقسام رشوة وهدیة وأجرة ورزق ۔۔۔۔۔ وأما الأجرة وهي الثالث فإن کان للحاکم جرایة من بیت المال ورزق حرمت بالاتفاق لأنه إنما أجری له الرزق لأجل الاشتغال بالحکم فلا وجه للأجرة۔ (۱۴۷۱/۴، ۱۴۷۲، الرشوة للقاضي والهدیة ، فتح القدیر: ۲۵۴/۷، الدر المختار مع الشامیة : ۳۴/۸، المال المأخوذ ظلماً:۴۰۸/۱)
(فتاوی محمودیه:۴۶۵/۱۸، فتاوی حقانیه:۲۶۸/۶)
