مسئلہ:
جب پرانی مسجد کو شہید کر کے اسکی نئی تعمیر کی جارہی ہو تو نئی تعمیر میں پرانی مسجد کے کسی حصہ کو تعمیر سے خارج کرنا جائز نہیں،اور اگر کسی حصہ کو خارج کر بھی دیا گیا تو وہ مسجد ہی رہیگی، جنبی ،حائضہ وغیرہ کو اس میں داخل ہونا جائز نہیں ہے اور نہ ہی اس حصہ میں امام ومؤذن یا جماعتو ں کے رکنے کے لیے حجرہ یا مسافر خانہ بنانا جائز ہے ، کیو نکہ جو زمین ایک دفعہ مسجد ہو جاتی ہے وہ ابد الآباد یعنی ہمیشہ ہمیشہ تک مسجد رہتی ہے۔
الحجة علی ما قلنا
ما في ’’ الدر المختار مع الشامیة ‘‘ : ولو خرب ما حوله واستغنی عنه یبقی مسجداً عند الإمام والثاني أبدا إلی قیام الساعة وبه یفتی۔(۴۲۹/۶)
ما في’’ الهندیة ‘‘ : قیم المسجد لا یجوز له أن یبني حوانیت في حد المسجد أو في فنائه لأن المسجد إذا جعل حانوتاً ومسکناً تسقط حرمته وھذا لا یجوز ۔ (۴۶۲/۲)
ما في ’’ الفتاوی البزازیة علی ھامش الھندیة ‘‘: ولا یجوز للقیم أن یجعل شیئاً من المسجد مسکناً أو مستغلاً ولا أن یبنی في فناء المسجد حوانیت ۔ (۲۸۵/۶)
ما في ’’ فتاوی قاضیخان علی هامش الهندیة ‘‘ : ولو إن قیم المسجد أراد أن یبني حوانیت في حریم المسجد وفنائه قال الفقیه أبو اللیث رحمه الله تعالٰی :لا یجوز له أن یجعل شیئاً من المسجد مسکناً أو مستغلاً ۔ (۲۹۳/۳)
ما في ’’ البحر الرائق ‘‘ : یمنع الحیض دخول المسجد وکذا الجنابة۔۔۔ ۔۔۔۔۔ وحرمة الدخول للجنب ، وفناء المسجد له حکم المسجد في حق جواز الاقتداء بالإمام وإن لم تکن الصفوف متصلة ولا المسجد ملآناً ۔ (۳۳۸/۱،کتاب الطهارة، الفصل الرابع)
