کفارہٴ افطار کے روزوں میں عورت کو حیض آجانا

مسئلہ:

اگر کوئی عورت کفارہٴ افطار کو روزوں سے ادا کرے، اور وہ درمیان میں حائضہ ہوجائے، تو اس کا یہ حیض شرطِ تتابع (لگاتار دو مہینے روزہ رکھنا) کے منافی نہیں ہے، کیوں کہ دو مہینہ حیض سے خالی نہیں ہوتا ہے، لیکن اس پر لازم ہے کہ حیض سے پاک ہوتے ہی وہ روزے رکھنا شروع کردے، لہذا اگر اس نے پاکی کے بعد ایک دن بھی افطار کرلیا تو اس پر دوبارہ از سرِ نو دو مہینے لگاتار روزے رکھنا لازم ہوگا ۔

الحجة علی ما قلنا :

ما فی ” الشامیة “: قال الشامی تحت قوله : (بخلاف الحیض) فإنه لا یقطع کفارة قتلها وإفطارها، لأنها لا تجد شهرین خالیین عنه۔۔۔۔۔۔ وعلیها أن تصل ما بعد الحیض بما قبله، فلو أفطرت بعده یوماً استقبلت لترکها التتابع بلا ضرورة۔(۱۱۱/۵، کتاب الطلاق، باب الکفارة، البحر الرائق:۱۷۷/۴، کتاب الطلاق، فصل فی الکفارة)

ما فی ” فتح القدیر“:(إن أفطر یوماً منها بعذر کمرض أو سفر لزم الاستقبال) بخلاف ما لو أفطرت المرأة للحیض فی کفارة القتل أو الفطر فی رمضان حیث لا تستأنف وتصل قضاء ها بعد الحیض، ولو أفطرت یوماً قبل القضاء لزمها الاستیناف، لأنها لا تجد شهرین لیس فیهما أیام الحیض عادة۔

(۲۳۸/۴،کتاب الطلاق، فصل فی الکفارة، الدر المنتقی شرح الملتقی: ۱۲۴/۲، کتاب الطلاق، فصل فی الکفارة، الفقه الحنفی فی ثوبه الجدید: ۴۲۰/۱، کتاب الصیام، مباحث الظهار، النهر الفائق:۴۵۷/۲، کتاب الطلاق، باب الکفارة، فصل فی الکفارة)

اوپر تک سکرول کریں۔