(فتویٰ نمبر: ۲۲۷)
سوال:
۱-مائیکروسافٹ کمپنی (Microsoft Company)کے سافٹ ویئر (Software) مثلاً: وی پی(Vp)، ڈاٹ نیٹ(.Net) وغیرہ، ایک شخص ان کو خریدتا ہے، کمپنی کی طرف سے اس کی کاپی(Copy) کرنے اجازت نہیں ہے، صرف خریدنے والا ہی اسے استعمال کرسکتا ہے، لیکن عامةً خریدنے والا خود بھی استعمال کرتا ہے اور اپنے متعلقین کو بھی کاپی کرکے استعمال کے لیے دیتاہے، کیا اس طرح کرنا شرعاً جائز ہے؟
۲-استعمال کرنے والا شخص یہ کہتا ہے کہ ابھی میں استعمال کرلوں گا، بعد میں اس پر پیسے کماکر کمپنی سے یہ سافٹ ویئر (Software) خریدلوں گا، تو کیا اس صورت میں استعمال کی اجازت ہوگی؟ اگر شخصِ مذکور اپنے ارادے کے مطابق مذکورہ سافٹ ویئر(Software) خریدنا چاہتا ہے، مگر وہ بند ہوچکا ہے، مارکیٹ(Market) میں دستیاب نہیں ہے، تو اس نے کاپی (Copy)کرکے جتنی مدت استعمال کیا اور آئندہ بھی استعمال کرے گا، تو اس کا حکمِ شرعی کیا ہوگا؟
۳-ایک شخص جس کا انٹر نیٹ پلان (Internet Plan) لمٹیڈ (Limited) ہے، مثلاً تین مہینے کا تین جی بی(3GB) وہ استعمال کرسکتا ہے،لیکن تین جی بی (3GB)مکمل ہونے سے پہلے کسی وائرس (Virus) کی وجہ سے وہ تین جی بی(3GB)تین مہینے مکمل ہونے سے پہلے ختم ہوگیا، تو کیا شخصِ مذکور کسی ایسے شخص کے انٹرنیٹ پلان (Internet Plan) کو اپنے واجب حق، یعنی تین جی بی (3GB)مکمل ہونے تک استعمال کرسکتاہے، جس کااَن لمٹیڈ پلان (Unlimited Plan)ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق:
۱-کسی شخص کا سافٹ ویئر پروگرام (Software Program) کسی دوسرے کو کاپی (Copy)کرکے استعمال کے لیے دینا درست نہیں ہے، کیوں کہ یہ پروگرام مائیکروسافٹ کمپنی (Microsoft Company) کی ایک قیمتی شی ٴہے اور موجودہ زمانے میں ان کی خرید وفروخت بھی ہوتی ہے، اور ان کی خریدوفروخت کے وقت یہ شرط بھی لگائی جاتی ہے کہ اس پروگرام کی کاپی(Copy) کسی کو استعمال کے لیے نہ دی جائے،اور ضابطہ ہے کہ اگر کسی چیز کی خرید وفروخت کے ساتھ کسی عمل کا رواج ہوجائے، تو عرف وتعامل کی بنا پر اس کی شرط لگانا درست ہے(۱)،مثلاً: حقِ ایجاد ، حقِ تجارت اور حقِ تالیف وغیرہ۔(۲)
نیز کاپی کرکے دوسروں کو استعمال کے لیے دینے میں معاہدے کی خلاف ورزی(۳) اور خیانت لازم آتی ہے(۴)، جو تہذیب،حسنِ اخلاق اور شریعتِ اسلامی کے سراسر منافی ہے۔
۲– (الف) شخصِ مذکور کا یہ کہہ کر سافٹ ویئر پروگرام (Software Program) استعمال کرنا کہ ”ابھی میں استعمال کرلوں گا بعد میں پیسے کما کر اس کو خرید لوں گا“ درست نہیں ہے؛ کیوں کہ شریعتِ اسلامی ایسے تمام معاملات کو منع کرتی ہے جن میں غرر یا مخاطرہ پایا جائے(۵)، یعنی ثمن وقیمت معلوم ومقررنہ ہو، مبیع اور سودا مشخص نہ ہو، ثمن یامبیع کی سلامتی مشکوک ہو، مدتِ ادائیگی متعین نہ ہو(۶)، نیز فقہ کا قاعدہ بھی ہے کہ” ملکِ غیر میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف جائز نہیں ہے۔“(۷)
(ب)اگر مطلوبہ سافٹ ویئر پروگرام(Software Program) مارکیٹ (Market)میں دستیاب نہ ہو اور کسی شخص نے اس ارادے سے کاپی(Copy) کرکے استعمال کیا تھا کہ آئندہ اس کو خرید لوں گا، او ر اب وہ مارکیٹ(Market) میں دستیاب نہ ہو، تو شخصِ مذکور کو چاہیے کہ اس کی اصل قیمت سافٹ ویئر کمپنی (Software Company) کو ادا کردے، اور اگر اس رقم کا کمپنی (Company) تک پہنچانا متعذّر ودشوار ہو،تو غربا وفقرا پر اس کو صدقہ کردے۔ (۸)
۳-معاملے کی اس صورت کو عقدِاجارہ علی المنافع کہا جاتاہے،اس میں معقود علیہ یعنی منافع بتدریج حاصل ہوتے ہیں(۹)،اگر منافع کی مقررہ مقدار(3GB)مکمل ہونے سے پہلے ہی درمیان میں کسی وائرس (Virus) کے آجانے سے حاصل نہ ہوسکے، تو شخصِ مذکور کمپنی (Company) کو ادا کردہ رقم میں سے اس جز کے واپسی کا مطالبہ کرسکتا ہے، جو ان منافع کا عوض ہے، جو حاصل نہیں ہوئے۔(۱۰)
البتہ شخصِ مذکور کو شرعاً اس بات کی اجازت نہیں دی جاسکتی کہ وہ اپنا واجب حق، یعنی تین جی بی (3GB)اس شخص کے انٹرنیٹ پلان(Internet Plan) کو استعمال کرکے وصول کرے، جس کا پلان(Plan) اَن لمٹیڈ(Unlimited) ہے۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” رسائل ابن عابدین “ : ” المعروف عرفًا کالمشروط شرطًا “ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فقد جعل الشرط المتعارف کالشرط الثابت تصحیحه شرعًا ، وعلل المسئلة في الذخیرة بقوله : لأن التعارف والتعامل حجة یترک به القیاس ویخص به الأثر ۔ انتهی ۔ (۱۴۱/۲)
ما في ” الدرالمختار مع الشامیة “ : أو (جری العرف به کبیع نعل علی أن یحذوه) البائع (ویشرکه) ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : قوله : (استحسانًا للتعامل) أي یصح البیع ویلزم للشرط استحسانًا للتعامل ۔(۲۸۶/۷ ، کتاب البیوع ، باب بیع الفاسد ، مطلب في الشرط الفاسد)
(۲) ما في ” الفقه الإسلامي وأدلته “ : والموٴلف قد بذل جهدا کبیرا في إعداد موٴلفه فیکون أحق الناس به سواء فیما یمثل الجانب المادي : وهو الفائدة المادیة التي یستفیدها من عمله ، أو الجانب المعنوي : وهو نسبة العمل إلیه ۔ (۲۸۶۱/۴ ، المبحث الرابع ، أحکام الحق ، حق التألیف والنشر والتوزیع)
(۳) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یٰأَیَّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوٓا أَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ﴾۔(سورة المائدة: ۱)
ما في ” جامع الترمذي “ : عن عبد اللّٰه بن عمرو عن النبي ﷺ قال : ” أربع من کن فیه کان منافقا وإن کانت خصلة منهن فیه کانت فیه خصلة من النفاق حتی یدعها: من إذا حدث کذب، وإذا وعد أخلف، وإذا خاصم فجر ، وإذا عاهد غدر“ ۔ (۴۵۱/۳ ، رقم :۲۶۳۲ ، کتاب الإیمان ، ما جاء في علامة المنافق)
ما في ” شعب الإیمان للبیهقي “ : عن قتادة عن أنس قال : خطبنا رسول اللّٰه ﷺ فقال : ” لا إیمان لمن لا أمانة له ، ولا دین لمن لا عهد له “ ۔(۷۸/۴ ، رقم : ۴۳۵۴)
(مشکوة المصابیح : ۱۴/۱ ، کتاب الإیمان ، الفصل الثاني)
ما في ” جامع الترمذي “ : عن أبي هریرة – رضي اللّٰه عنه – قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” آیة المنافق ثلاث : إذا حدث کذب ، وإذا وعد أخلف ، وإذا اوٴتمن خان “ ۔
(۴۵۰/۳ ، رقم : ۲۶۳۱)
(۴) ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یٰأَیَّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنَوْا اللّٰه وَالرَّسُولَ وَتَخُوْنُوٓا أَمَانَاتِکُمْ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾ ۔ (سورة الأنفال : ۲۷)
ما في ” شعب الإیمان للبیهقي “ : عن قتادة عن أنس قال : خطبنا رسول اللّٰه ﷺ فقال : ” لا إیمان لمن لا أمانة له ، ولا دین لمن لا عهد له “۔(۷۸/۴ ،رقم: ۴۳۵۴)
(مشکوة المصابیح : ۱۴/۱ ، کتاب الإیمان ، الفصل الثاني)
ما في ” جامع الترمذي “ : عن أبي هریرة – رضي اللّٰه عنه – قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” آیة المنافق ثلاث : إذا حدث کذب ، وإذا وعد أخلف ، وإذا اوٴتمن خان “ ۔
(۴۵۰/۳ ، رقم : ۲۶۳۱)
(۵) ما في ” الصحیح لمسلم “ : عن أبي هریرة – رضي اللّٰه عنه – قال : ” نهی رسول اللّٰه ﷺ عن بیع الحصاة وعن بیع الغرر “ ۔ (۲/۲ ، کتاب البیوع)
(جامع الترمذي : ۲۳۳/۱ ، باب ما جاء في کراهیة بیع الغرر)
ما في ” أحکام القرآن للجصاص “ : ولا خلاف بین أهل العلم في تحریم القمار ، وأن المخاطرة من القمار ، قال ابن عباس : إن المخاطرة قمار ، وإن أهل الجاهلیة کانوا یخاطرون علی المال والزوجة ، وقد کان ذلک مباحا إلی أن ورد تحریمه ۔ (۳۹۸/۱)
(۶) ما في ” عمدة القاري “ : (وقال صاحب المشارق) : بیع الغرر بیع المخاطرة: وهو الجهل بالثمن أو المثمن أو سلامته أو أجله ، وقال أبو عمر : بیع یجمع وجوها کثیرة ، منها : المجهول کله في الثمن أو المثمن إذا لم یوقف علی حقیقة جملته ۔ (۳۷۶/۱۱ ، کتاب البیوع ، باب بیع الغرر وحبل الحبلة)
ما في ” النتف في الفتاوی للسغدي “ : ویفسد البیع سبعة أشیاء : أحدها جهالة الثمن والثاني جهالة الأجل والثالث جهالة المبیع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ والسادس أن یشترط فیه منفعة للمشتري ۔ (ص/۳۹۱ ، ما یفسد البیع)
(۷) ما في ” الدرالمختار مع الشامیة “ : لا یجوز التصرف في مال غیره بلا إذنه۔ (در مختار) ۔
(۲۹۱/۹ ، کتاب الغصب ، مطلب فیما یجوز من التصرف بمال الغیر بدون إذن صریح)
ما في ” دررالحکام شرح مجلة الأحکام “ : ” لا یجوز لأحد أن یتصرف في ملک الغیر بلا إذنه “ ۔ (۹۶/۱ ، المادة : ۹۶)
(۸) ما في ” صحیح البخاري “ : عن أبي هریرة – رضي اللّٰه عنه – أن رسول اللّٰه ﷺ قال : ” لا یزني الزاني حین یزني وهو موٴمن ، ولا یشرب الخمر حین یشرب وهو موٴمن ، ولا یسرق حین یسرق وهو موٴمن، ولا ینتهب نهبة یرفع الناس إلیه فیها أبصارهم وهو موٴمن “ ۔(ص/۱۱۹۹ ، کتاب الحدود ، ما یحذر من الحدود، رقم : ۶۷۸۲)
ما في ” القرآن الکریم “ : ﴿یٰأَیَّها الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَأْکُلُوٓا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ ۔ (سورة النساء : ۲۹)
ما في ” التفسیر الکبیر للرازي “ : ذکروا في تفسیر الباطل وجهین ؛ الأول : أنه إسم لکل ما لا یحل في الشرع کالربا والغصب والسرقة والخیانة وشهادة الزور ۔ اه ۔ وقوله تعالی : ﴿لا تَأْکُلُوٓا أَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ﴾ اه ۔ یدخل تحته أکل مال الغیر بالباطل ۔ (۵۶/۴ ، ۵۷)
ما في ” تعلیق بدائع الصنائع “ : وأخذ السرقة حرام : ویدل لذلک الکتاب والسنة والإجماع ۔ أما الکتاب : فقوله تعالی : ﴿وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوٓا أَیْدِیَهمَا جَزَآءً بِمَا کَسَبَا نَکَالاً مِّنَ اللّٰه وَاللّٰه عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ﴾ ۔ (المائدة : ۳۸) ۔ فإن اللّٰه قد رتب وجوب قطع الأیدي علی السرقة عقوبة للسارق ، وهذه العقوبة الشدیدة لا تکون إلا علی فعل محرم شرعًا لما فیها من شدید الإیذاء ۔ لا سیما وأنها علی جهة النکال من اللّٰه العزیز الحکیم ۔ وأما السنة : فأولا ما رواه الحاکم من حدیث حجة الوداع أن رسول اللّٰه ﷺ قال : ” لا یحل لامرئ من مال أخیه إلا ما أعطاه عن طیب نفس“ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فإن نفي الحل یقتضي الحرمة ، فأخذ مال الغیر حرام إلا إذا طابت به نفسه، والسرقة أخذ مال الغیر من غیر طیب من نفسه فتکون محرمة ۔ وثانیًا : ما رواه مسلم عن أبي هریرة قال : قال رسول اللّٰه ﷺ : ” لعن اللّٰه السارق یسرق البیضة فتقطع یده ، ویسرق الحبل فتقطع یده “ ۔ فإن اللعن علی الفعل دلیل حرمته ، خصوصًا إذا صاحب اللعن ترتب العقوبة علی الفعل کما هنا ۔ وأما الإجماع : فقد اتفقت کلمة المجتهدین من السلف والخلف علی حرمتها ۔ (۲۷۹/۹ ، کتاب السرقة، فصل في رکن السرقة)
(۹) ما في ” رد المحتار “ : والحاصل أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده علیهم، وإلا فإن علم عین الحرام لا یحل له، ویتصدق به بنیة صاحبه، وإن کان مالا مختلطًا مجتمعًا من الحرام، ولا یعلم أربابه ولا شیئا منه بعینه حل له حکمًا، والأحسن دیانةً التنزه عنه۔(۳۰۱/۷ ، کتاب البیوع ، باب البیع الفاسد ، مطلب فیمن ورث مالا حرامًا)
ما في ” الموسوعة الفقهیة “ : والواجب في الکسب الخبیث تفریغ الذمة منه برده إلی أربابه إن علموا وإلا إلی الفقراء ۔ (۴۰۷/۳۹)
(۱۰) ما في ” شرح ابن ملک علی هامش مجمع البحرین “ : ولأن العقد علی المنافع ینعقد ساعة فساعة علی ما قالوا ۔ (ابن ملک) ۔ (ص/۳۷۲ ، کتاب الإجارة)
ما في ” الهدایة شرح بدایة المبتدي “ : ولنا : أن العقد ینعقد شیئا فشیئا علی حسب حدوث المنافع ۔ (۲۲۸/۳ ، کتاب الإجارات ، باب الأجر متی یستحق؟) فقط
والله أعلم بالصواب
کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۳۰/۵/۲۱ھ
