مسئلہ:
آج کل چشمہ کی بجائے کنٹیکٹ لینسیز کا استعمال بہت عام ہوچکا ہے، یہ پلاسٹک کی گول شکل میں ہوتا ہے، جو آنکھ کے گول کالے حصے کو ڈھانپ لیتا ہے، بعض لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ آنکھ میں لینسیز کے موجودگی کے دوران اگر وضو یا غسل کیا جائے، تو وضو اور غسل درست نہیں ہوتا، جب کہ صحیح بات یہ ہے کہ لینسیز کے آنکھ میں موجود ہونے سے وضو اور غسل پر کوئی فرق نہیں پڑتا، اور وضو اور غسل درست ہوجاتا ہے، کیوں کہ وضو اور غسل میں آنکھ کے اندرونی حصے کا دھونا،نہ فرض ہے، نہ سنت۔
الحجة علی ما قلنا :
ما في ” مراقي الفلاح “ : ولا یجب إیصال الماء إلی ما انکتم من الشفتین عند الإنضمام ۔۔۔۔۔۔ ولا باطن العینین ولو في الغسل للضرر۔
(ص:۲۶، کتاب الطهارة، فصل في تمام أحکام الوضوء)
ما في ” البحر الرائق “ : وصرّح الولوالجي في باب الکراهیة علی أن المفتی به أنه لا یجب إیصال الماء إلی ما تحته کالحاجبین، وذکر في المجتبی: لا تغسل العین بالماء۔
(۲۷/۱، کتاب الطهارة)
ما في ” الفتاوی الهندیة “ : وإیصال الماء إلی داخل العینین لیس بواجب ولا سنة۔(۴/۱، کتاب الطهارة)
ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : لا غسل باطن العینین ۔ الدر المختار ۔ قال الشامي: لأنه شحم یضره الماء الحارّ والبارد۔ (۲۱۱/۱، کتاب الطهارة)
ما في ” بدائع الصنائع “ : وإدخال الماء في داخل العینین لیس بواجب، لأن داخل العینین لیس بوجه، لأنه لا یواجه إلیه ، ولأن فیه حرجاً۔ (۶۷/۱)
(آپ کے مسائل اور ان کا حل:۲۴۳/۹)
