مسئلہ:
بعض لوگ بطورِ قرض دوسروں کو روپئے دیتے ہیں، اور وصولی ٴ دین کو یقینی بنانے کیلئے کوئی چیز اپنے پاس بطور رہن یعنی گروی رکھتے ہیں، اور اس شیٔ مرہون (جس چیز کو گروی رکھا گیا ہے) سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں، جبکہ مرتہن ( جس کے پاس کوئی چیز گروی رکھی گئی ہے) کا شی ٴ مرہون سے فائدہ اٹھانا، یا نفع حاصل کرنا جائز نہیں ہے، گرچہ راہن (گروی رکھنے والا) نے نفع اٹھانے کی صراحةً اجازت دی ہو، یا عرفاً اس کا رواج ہو، کیوں کہ یہ سود ہے(۱)، اگر مرتہن نے شی ٴ مرہون سے فائدہ اٹھایا اوروہ شیٴ ہلاک ہوگئی، تو وہ اس کی قیمت کا ضامن ہوگا۔(۲)
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿وإن کنتم علی سفر ولم تجدوا کاتباً فرهان مقبوضة﴾۔(سورة البقرة:۲۸۳)
ما فی ” أحکام القرآن للجصاص “ : قال أبوحنیفة وأبویوسف ومحمد والحسن بن زیاد وزفر لا یجوز للمرتهن الانتفاع بشيء من الرهن ولا للراهن أیضاً ، وقالوا: إذا أجر المرتهن الرهن بإذن الراهن۔۔۔۔۔۔۔ فقد خرج من الرهن ولا یعود۔(۶۴۴/۱)
ما فی ” فیض القدیر للمناوی “ : ” کل قرض جر منفعةً فهو ربا “ ۔(۲۸/۵، رقم الحدیث: ۶۳۳۶)
ما فی ” الشامیة “ : لا یحل له أن ینتفع بشيء منه بوجه من الوجوه، وإن أذن له الراهن ، لأنه اذن له فی الربا، لأنه یستوفی دینه کاملاً فتبقی له المنفعة فضلاً فیکون رباً ، وهذا أمر عظیم ۔(۷۰/۱۰، الموسوعة الفقهیة :۱۸۳/۳۳)
(۲) ما فی ” بدائع الصنائع “ : فإن انتفع به فهلک فی حال الاستعمال یضمن کل قیمته لأنه صار غاصباً ۔ (۲۱۲/۵، کتاب الرهن)
(فتاوی محمودیه:۱۲۵/۲۰، احسن الفتاوی :۴۹۸/۸)
