مسئلہ:
۲۲/رجب کو بعض جگہ کونڈہ کرنے کا رواج ہے، جب کہ کونڈوں کی مروجہ رسم اہلِ سنت والجماعت کے مذہب میں محض بے اصل، خلافِ شرع اور بدعتِ ممنوعہ ہے، کیوں کہ ۲۲/رجب نہ حضرت امام جعفر صادق کی تاریخِ پیدائش ہے اور نہ تاریخِ وفات، حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ کی ولادت ۸/رمضان ۸۰ھ یا ۸۳ھ میں ہوئی، اور وفات ماہِ شوال۱۴۸ھ میں ہوئی(۱)، البتہ ۲۲ رجب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی تاریخ وفات ہے(۲)، اس سے ثابت ہوتا ہے کہ محض پردہ پوشی کے لیے اس رسم کو حضرت جعفر صادق رحمہ اللہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، ورنہ درحقیقت یہ تقریب حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی وفات کی خوشی میں منائی جاتی ہے۔
جس وقت یہ رسم ایجاد ہوئی، اہلِ سنت والجماعت کا غلبہ تھا، اس لیے یہ اہتمام کیاگیا کہ شیرینی علانیہ تقسیم نہ کی جائے تاکہ راز فاش نہ ہو، بلکہ دشمنانِ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ خاموشی کے ساتھ ایک دوسرے کے یہاں جاکر اُسی جگہ یہ شیرینی کھالیں جہاں اس کو رکھا گیا ہے، اور اس طرح اپنی خوشی ومسرت ایک دوسرے پر ظاہر کریں، جب اس کا چرچا ہوا، تو اس کو حضرت امام جعفر صادق رحمہ اللہ کی طرف منسوب کرکے یہ تہمت اُن پرلگائی کہ انہوں نے خود اس تاریخ میں اپنی فاتحہ کا حکم دیا ہے، حالانکہ یہ سب من گھڑت ہے۔ (ماخوذ از دین اسلام ویب )
مسلمانوں پر لازم ہے کہ ہرگز ایسی رسم نہ کریں، بلکہ دوسروں کو بھی اس کی حقیقت سے آگاہ کرکے اس سے بچانے کی کوشش کریں۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما في ” اکمال تهذیب الکمال “ : وفي تاریخ البخاري الکبیر: حدثني عیاش بن المغیرة قال: ولد یعني جعفرا سنة الجحاف سنة ثمانین ۔۔۔۔۔۔۔۔ وقال ابن خلفون في کتاب ” الثقات “: لما خرج محمد بن عبد الله بن حسن بالمدینة هرب جعفر إلی ماله بالفرع، فلم یزل هناک مقیمًا متنحیًا عما کانوا فیه حتی قتل محمد بن عبد الله واطمئن الناس وأمنوا، رجع فلم یزل بالمدینة حتی توفی سنة سبع أو ثمان وأربعین في خلافة أبي جعفر، وهو یومئذ ابن إحدی وسبعین۔
(۲۲/۳۔۲۳، حرف المیم ، علامه علاء الدین مغلطائي، مکتبة الفاروق الحدیثة للطباعة والنشر)
(۲) ما في ” تهذیب الکمال لجمال الدین یوسف بن عبد الرحمن المزي “ : قال محمد بن اسحاق: کان معاویة أمیرا عشرین سنة، وخلیفة عشرین سنة، قال یحی بن بکیر عن اللیث بن سعد: توفي في رجب لأربع لیال بقین منه سنة ستین، وقال الولید بن مسلم: مات في رجب سنة ستین، وکانت خلافته تسع عشرة سنة ونصفًا۔ وقال غیره: توفي بدمشق یوم الخمیس لثمان بقین من رجب سنة تسع وخمسین، وهو ابن اثنتین وثمانین۔ (۷۰۴/۹، باب المیم، معاویة بن أبي سفیان، ط: بیروت)
ما في ” التاریخ لإبن جریر الطبري “ : حدثني عمر قال: حدثنا علي قال: بایع أهل الشام معاویة وإلی أن قال: مات بدمشق ۶۰ یوم الخمیس لثمان بقین من رجب۔
(۱۸۰/۶۔۱۸۱، ذکر وفاة معاویة، الإکمال في أسماء الرجال:۶۱۷/۲، حرف المیم، فصل في الصحابة، بحواله فتاوی محمودیه:۴۹۴/۵، میرٹھ)
(احسن الفتاویٰ:۳۶۷/۱۔۳۶۸، فتاویٰ عثمانی:۱۲۶/۱، کفایت المفتی:۹۶/۹، فتاوی محمودیه: ۴۹۳/۵۔۴۹۴، میرٹھ، ۲۸۱/۳۔۲۸۲، کراچی ،سفینة الخیرات فی ذکر مناقب السادات: ص/۲۳۸، الاکمال فی اسماء الرجال لصاحب المشکوة: ص/۵۸۹، جعفر الصادق، فصل فی التابعین، یاسر ندیم اینڈ کمپنی دیوبند)
