کپڑے والا واپس لینے نہ آئے تودرزی کیا کرے؟

(فتویٰ نمبر: ۸۵)

سوال:

۱-میرا پیشہ خیاطی (درزی) کا ہے، عرضِ مسئلہ یہ ہے کہ ایک طالبِ علم نے کپڑا سلوانے کے لیے ڈالا، اور کٹنگ کے دوران میرے ہاتھ سے پائجامہ کچھ غلط کٹ گیا، اب میں نے اسی کے مثل دوسرا کپڑا لا کر اس کا پائجامہ سل دیا، اور اس کا علم صاحبِ کپڑا کو نہیں ہے، تو کیا اس طرح سے کپڑا بدلنا شرعاً درست ہے؟

۲-بہت سارے طلبہ کپڑا سلوانے کے لیے ڈالتے ہیں، مگر سلے ہوئے کپڑے واپس نہیں لے جاتے،یہاں تک کہ ان کپڑوں پر سال گزرجاتا ہے،توکیا ہم ان کپڑوں کو بیچ کر اپنی سلائی کا پیسہ نکال سکتے ہیں؟ نیز ان کپڑوں کو صدقہ کرسکتے ہیں یانہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق:

۱– خیاط (درزی/Tailor)اجیرِ مشترک ہے اور معقود علیہ (سلے ہوئے کپڑے) پر اس کا قبضہ، قبضہٴ امانت کی طرح ہوتا ہے، حضرت امام ابوحنیفہ رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں:

جس طرح امین کے قبضے میں امانت بلا تعدی ہلاک ہوجانے کی وجہ سے اس کا تاوان لازم نہیں آتا،اسی طرح اجیرِ مشترک کے قبضے میں بھی اگر معقود علیہ بلا تعدی ہلاک ہوجائے،تو اس پر بھی تاوان لازم نہیں آئے گا، لیکن یہ قول غیر مفتیٰ بہ ہے۔

صاحبین رحمہما اللہ فرماتے ہیں:

تاوان لازم ہوگا، اور یہی قول مفتیٰ بہ ہے، اس لیے خیاط کا اصل کپڑے کے بدلے میں ویسا ہی کپڑا بطورِ تاوان دینا شرعاً درست ہے، خواہ کپڑے کے مالک کو اس کا علم ہو یا نہ ہو، کیوں کہ اصل تو ادائے ضمان ہی ہے۔(۱)

۲-اگر کوئی شخص کپڑا سلانے ڈالے، اور واپس لینے نہ آئے توکچھ وقت تک اس کا انتظار کرنا ضروری ہے، اس مدت میں اس کو تلاش کیا جائے، اگر وہ مل جائے تو اس کے حوالے کردے، یا وہ نہ ملے تو موت کی صورت میں اس کے ورثا کو کپڑے پہنچا کر اپنی اُجرت وصول کرلے(۲)، لیکن اگر اس کے ورثا کا بالکل پتہ نہ چلے تو یہ کپڑے اس کی طرف سے صدقہ کردے، اور اگر درزی فقیر ہے تو خود بھی استعمال کرسکتا ہے، کپڑے کے تصدق یا استعمال کے بعد اگر مالک واپس آجائے، تو مالک کو اختیار ہوگا کہ اس صدقے پر راضی رہے، یا یہ کہ خیاط سے اپنے کپڑے کا مطالبہ کرے(۳)،خیاط کا کپڑا فروخت کرکے اپنی اُجرت وصول کرنا شرعاً صحیح نہیں ہے۔(۴)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : وحکم الأجیر المشترک أن ما هلک في یده من غیر صنعه فلا ضمان علیه في قول أبي حنیفة رحمه اللّٰه تعالی ، وهو قول زفر والحسن، وأنه قیاس ، سواء هلک بأمر یمکن التحرز عنه کالسرقة والغصب ، أو بأمر لا یمکن التحرز عنه کالحرق الغالب والغارة الغالبة والمکابرة ۔۔۔۔۔۔۔۔ وبقولهما یفتی الیوم لتغیر أحوال الناس ، وبه یحصل صیانة أموالهم، کذا في التبیین ۔(۵۰۰/۴ ، الباب الثامن والعشرون في بیان حکم الأجیر المشترک ، ط : زکریا دیوبند)

(تبیین الحقائق : ۱۴۵/۶ ، کتاب الإجارة ، باب ضمان الأجیر ، ط : بیروت)

(النتف في الفتاوی : ص/۳۴۰ ، کتاب الإجارة ، أنواع الأجراء)

(۲) ما في ” الفتاوی الهندیة “ : غاب المودع ولا یدری حیاته ولا مماته یحفظها أبدًا حتی یعلم بموته وورثته ، کذا في الوجیز الکردري ، ولا یتصدق بها بخلاف اللقطة ، کذا في الفتاوی العتابیة ۔(۳۵۴/۴ ، الباب السابع في رد الودیعة)

ما في ” رد المحتار “ : قال العلامة ابن عابدین الشامي رحمه اللّٰه تعالی : غاب رب الودیعة ولا یدری أهو حي أم میت ؟ یمسکها حتی یعلم موته ولا یتصدق بها بخلاف اللقطة ۔

(۴۷۳/۸ ، کتاب الودیعة ، ط : بیروت)

(۳) ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : قال العلامة الحصکفي رحمه اللّٰه تعالی : فینتفع بها لو فقیرًا وإلا تصدق بها علی فقیر ولو علی أصله وفرعه وعرسه ، فإن جاء مالکها بعد التصدق خیر بین إجازة فعله ولو بعد هلاکها ، وله ثوابها أو تضمینه ۔ (۳۳۷/۶ ، کتاب اللقطة)

(۴) ما في ” رد المحتار “:والودیعة لا تودع،ولا تعار،ولا توجر،ولاترهن۔(۴۷۷/۸ ،کتاب العاریة،خلاصة الفتاوی:۲۹۱/۴ ،الفتاوی الهندیة:۳۳۸/۴، کتاب الودیعة)فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی۔۱۴۲۹/۵/۲۷ھ

الجواب صحیح: عبد القیوم اشاعتی ۔۱۴۲۹/۵/۲۷ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔