کھانے کی اقسام اور ان کا حکم

مسئلہ:

کھانا کھانے کی پانچ صورتیں ہیں: فرض۔مباح۔حرام۔ مندوب۔ مکروہ ۔

(۱) فرض :ا س قدر کھانا کہ جان بچ جائے اور فرائض کو ادا کر سکے فرض ہے ۔

(۲) مباح :پیٹ بھر کر کھانا تاکہ قوی اور مضبوط ہو مباح ہے۔

(۳) حرام :پیٹ بھر جانے کے بعد اس قدر کھانا جو مضر ہو حرام ہے ،مگر یہ کہ روزہ کے لئے قوت حاصل کرنا یا اپنے مہمان کو شرم سے بچانا وغیرہ مقصود ہو تویہ حرام نہ ہوگا۔(۱)

(۴) مندوب: وہ کھانا جو تحصیلِ نوافل اور تعلیم وتعلم میں معاون ہو ۔

(۵) مکروہ  :پیٹ بھر جانے کے بعد اس قدرکھاناجومضرنہ ہو۔ (۲)

الحجة علی ما قلنا

(۱) ما في’’  القرآن الکریم  ‘‘ : قوله تعالی :{کلوا واشربوا ولا تسرفوا، إنه لا یحب المسرفین} ۔ (سورة الأعراف:۳۱)

ما في ’’ التفسیر الکبیر‘‘ : أن یأکل ویشرب بحیث لا یتعدي إلی الحرام و لا یکثر الإنفاق المستقبح ولا یتناول مقداراً کثیراً یضره ولا یحتاج إلیه ۔ (۲۳۰/۵)

وما في ’’  القرآن الکریم  ‘‘ : {ولا تلقوا بأیدیکم إلی التھلکة} ۔ (سورة البقرة:۱۹۵)

ما في ’’سنن الترمذي‘‘:’’ما ملأ ابن آدم وعاء  شرّا من البطن بحسب ابن آدم أکلات یقمن صلبه فإن کان لا محالة فثلث لطعامه وثلث لشرابه وثلث لنفسه‘‘۔(۶۳/۲)

ما في ’’ التنویر وشرحه مع الشامیة ‘‘: الأکل فرض مقدار ما ید فع الهلاک عن نفسه ویتمکن به من الصلاة قائماً ومباح إلی الشبع لتزید قوته وحرام وھو ما فوقه أي الشبع إلا أن یقصد  قوة صوم الغد أو لئلا یستحیی ضیفه۔’’ تنویر‘‘ ۔(۴۱۲/۹، کتاب الحظر والإباحة)

(۲) ما في ’’ الشامیة ‘‘: ومندوب وھو ما یعینه علی تحصیل النوافل و تعلیم العلم وتعلمه، ومکروه وھو مازاد علی الشبع قلیلاً ولم یتضرر به۔

(۴۱۲/۹ ، کتاب الحظر والإباحة ، الفتاوی الهندیة :۳۳۶/۵،کتاب الکراهیة ، الباب الحادي العشر في الکراهیة)

اوپر تک سکرول کریں۔