مسئلہ:
اگر کسی چیز کے بیچتے وقت عقد میں یہ شرط لگائی جائے کہ اگر خریدنے والے نے مقررہ مدت تک کل رقم یا اس کا کچھ حصہ ادا نہیں کیا ، تو یہ بیع ختم ہوجائے گی، تو یہ صورت ”خیار نقد“ کی ہے، اور بیع میں یہ شرط لگانا جائز ہے، اور یہ شرط اپنے وقت پر موٴثر بھی ہوگی، یعنی مقررہ مدت میں کل رقم یا اس کا کچھ حصہ ادا نہیں کیا گیا ، تو بائع (بیچنے والا)یک طرفہ طور پر بیع کو ختم کرکے مبیع خریدنے والے سے واپس لے سکتا ہے، اور ثمن کا جتنا حصہ اس نے وصول کیا ہے، وہ خریدنے والے کو واپس لوٹادے ۔
الحجة علی ما قلنا :
(۱) ما فی ” درر الحکام شرح مجلة الأحکام “ : إذا تبایعا علی أن یوٴدی المشتری الثمن فی وقت کذا، وإن لم یوٴده فلا بیع بینهما صح البیع ، وهذا یقال له خیار النقد۔
(۳۰۹/۱، رقم المادة: ۳۱۳)
ما فی ” بدائع الصنائع “ : وأما بیان ما یرفع حکم البیع فنقول وبالله التوفیق: حکم البیع نوعان: نوع یرتفع بالفسخ، وهو الذی یقوم برفعه أحد المتعاقدین وهو حکم کل بیع غیر لازم، کالبیع الذی فیه أحد الخیارات الأربع والبیع الفاسد۔(۳۷۹/۷، کتاب البیوع، فصل فی بیان ما یرفع حکم البیع)
ما فی ” شرح المجلة لسلیم رستم باز “ : إذا لم یوٴد المشتری الثمن فی المدة المعینة کان البیع الذی فیه خیار النقد فاسداً، ولکل من العاقدین فسخه إذا بقی المبیع علی حاله۔
(ص/۱۶، رقم المادة: ۳۱۴)
(فتاویٰ عثمانی: ۲۶۰/۳)
