کیا تحریری طلاق سے طلاق واقع ہوجاتی ہے؟

(فتویٰ نمبر: ۱۳۵)

سوال:

زید نے اپنی بیوی ہندہ کے لیے یہ تحریر لکھی( جس کا رسم الخط ہندی میں ہے) کہ میں پورے ہوش وحواس میں لکھ رہا ہوں کہ میرے ساتھ میری بیوی نے نا انصافی کی ہے ، اس لیے میں اسے، طلاق، طلاق، طلاق، دیتا ہوں، مجھ سے میرے بچوں کو چھڑایا اور ان کو لے کر چلی گئی،یہ سب میرے گھر والوں کا سوچا سمجھا پلان تھا، پر مجھے نہیں معلوم تھا کہ میری بیوی میرے ساتھ ایسا کرے گی، چاہتا تو میں ان سب کو سبق سکھلا دیتا مگر میرے دل نے گوارا نہیں کیا ،اب وہ جہاں بھی رہے گی آنے والاوقت اس کے لیے بہت برا ہوگا، میں تو نہیں رہوں گا،پَر میرے بچوں کو اچھا رکھنا، میرے لیے میرے بچے سب کچھ ہیں، میں نے ابھی تک تمہارے بارے میں ہی سوچا،پر میرا کسی نے نہیں سوچا، میں تو مرجاوٴں گا اس کے بعد زندگی بھر تو پچھتائے گی(مرحوم زید نے اپنا نام نہ لکھ کر صرف ”مرحوم“ لکھا ہے اور تحریر اسی کی ہے)۔اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟اگر ہوئی تو کونسی طلاق واقع ہوئی؟ اور اس کا حکم کیا ہے ؟

الجواب وباللہ التوفیق:

تحریری طلاق سے،خواہ خود لکھ لے یا کسی سے لکھوالے، بہر دوصورت طلاق واقع ہوجاتی ہے، اس لیے صورتِ مسئولہ میں تین طلاق واقع ہوچکی ہے، اور بیوی شوہر پر حرام ہوگئی، اب بغیر حلالہ شوہرِ اول کے لیے حلال نہیں ہوسکتی۔

الحجة علی ما قلنا :

ما في ” الدر المختار مع الشامیة “ : فروع : کتب الطلاق ، إن مستبینًا علی نحو لوح وقع إن نوی، وقیل مطلقًا ، ولو علی نحو الماء فلا مطلقًا ۔ (در مختار) ۔ وفي الشامیة : قوله : (کتب الطلاق إلخ) قال في الهندیة : الکتابة علی نوعین : مرسومة ، وغیر مرسومة ، ونعني بالمرسومة أن یکون مصدرًا ومعنونًا، مثل ما یکتب إلی الغائب ، وغیر المرسومة أن لا یکون مصدرًا ومعنونًا ، وهو علی وجهین : مستبینة، وغیر مستبینة ، فالمستبینة ما یکتب علی الصحیفة والحائط والأرض علی وجه یمکن فهمه وقراء ته۔ وغیر المستبینة ما یکتب علی الهواء والماء وشيء لا یمکن فهمه وقراء ته ، ففي غیر المستبینة لا یقع الطلاق وإن نوی، وإن کانت مستبینة لکنها غیر مرسومة إن نوی الطلاق یقع ، وإلا لا ؛ وإن کانت مرسومة یقع الطلاق نوی أو لم ینوِ ۔ (۳۳۶/۴ ، کتاب الطلاق ، مطلب في الطلاق بالکتابة ، الفتاوی الهندیة :۳۷۸/۱)

ما في ” بدائع الصنائع “ : وأما الطلقات الثلاث : فحکمها الأصلي هو زوال الملک ، و زوال حل المحلیة أیضًا ، حتی لا یجوز له نکاحها قبل التزوج بزوج آخر ، لقول اللّٰه عزوجل : ﴿فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتی تنکح زوجًا غیره﴾ ۔ (البقرة :۲۳۰) وسواء طلقها ثلاثًا متفرقًا أو جملة واحدة ۔

(۴۰۳/۴ ، کتاب الطلاق ، فصل في حکم الطلاق البائن ، ط : دار الکتب العلمیة بیروت) فقط

والله أعلم بالصواب

کتبه العبد: محمد جعفر ملی رحمانی ۔۱۴۲۹/۱۱/۱۰ھ 

اوپر تک سکرول کریں۔