کیا جھنڈے کو سلامی دینا درست ہے؟

مسئلہ:

کسی بھی ملک کا جھنڈا اور پرچم اس ملک کی عزت، بلندی، اور شان کا نشان ہوتا ہے، ہمارے ملک ہندوستان کا بھی ایک پرچم ہے، جو انہی چیزوں کی علامت ونشانی ہے، ۱۵/ اگست یا ۲۶/ جنوری کو پرچم کشائی کے موقع پر اسکولوں اور کالجوں کے طلباء واساتذہ اور دیگر محکموں کے افسران وملازمین اسے اپنے ہاتھ کے اشارے سے سلامی دیتے ہیں، یہ عمل محض عرفی طریقہ پر اس کا احترام ہے(۱)، اس میں اس کی عبادت وتعظیم کا کوئی پہلو نہیں ہے، اور نہ ہی کوئی مسلم اس کا یہ احترام اس نیت سے کرتا ہے کہ وہ قابلِ تعظیم وعبادت ہے، کیوں کہ اس کا عقیدہ ہے کہ لائق عبادت وتعظیم صرف اللہ کی ذات ہے(۲)، اس لیے شرعاً اسے جائز ہونا چاہیے، جیسا کہ حضرت مولانا مفتی عبد الرحیم صاحب لاجپوریؒ فرماتے ہیں کہ” یہ محض سیاسی چیز ہے اور حکومتوں کا طریقہ ہے، اسلامی حکومتوں میں بھی ہوتا ہے، بچنا اچھا ہے، اگر فتنہ کا ڈر ہو تو بادلِ ناخواستہ کرنے میں مواخذہ نہیں ہوگا“۔ (فتاوی رحیمیہ:۱۸۰/۱۰)

حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحبؒ فرماتے ہیں کہ” جھنڈے کو سلامی مسلم لیگ بھی کرتی ہے، اور اسلامی حکومتوں میں بھی ہوتی ہے، وہ ایک قومی عمل ہے، اس میں اصلاح ہوسکتی ہے، مگر مطلقاً اس کو مشرکانہ فعل قرار دینا صحیح نہیں ہے“۔(کفایت المفتی:۳۷۸/۹)

حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب فرماتے ہیں کہ” جھنڈا لہرانا درست ہے، اور اہل علم نے اس کو جائز قراردیا ہے، البتہ اس موقع پر ایسا عمل کرنا جس سے جھنڈے کی غیر معمولی تعظیم ظاہر ہوتی ہو، جیسے دونوں ہاتھ جوڑنا یا جھکنا جائز نہیں ہے “۔(کتاب الفتاوی:۲۸۲/۱)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی” موسوعة الفتاوی “ : التشبه بالکفار ممنوع، والضابط فیها أن یقوم الإنسان بشئ یختص به الکفار، بحیث یظن من رآه أنه من الکفار، وأما ما انتشر بین المسلمین ولا یتمیز به الکفار، فإنه لا یکون تشبهاً وإن کان أصله ماخوذا من الکفار۔ (بحواله اسلام ویب)

ما فی” القواعد الفقهیة “: الأصل أن تزول الأحکام بزوال عللها۔(ص:۱۷۶، القواعد الفقهیة لعلی أحمد الندوی: ص۱۷۰، أصول الشاشی:ص۴۶۔۴۷)

ما فی ” الأشباه والنظائر “ : الأمور بمقاصدها۔ (۱۱۳/۱)

(۲) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿إیاک نعبد وإیاک نستعین﴾۔ (سورة الفاتحة:۴)

ما فی ” صحیح البخاری “ : عن ابن عمر رضی الله عنهما قال: قال رسول الله ﷺ : ” بني الإسلام علی خمس: شهادة أن لا إله إلا الله، وأن محمداً رسول الله، وإقام الصلاة وإیتاء الزکوة والحج وصوم رمضان “۔ (۶/۱،کتاب الإیمان، باب قول النبی ﷺ بني الإسلام الخ)

ما فی ” السنن للترمذی “: عن أنس بن مالک قال: قال رجل: یا رسول الله ! ” الرجل منا یلقی أخاه أو صدیقه أ ینحنی له ؟ قال: لا، قال: أ فیلتزمه ویقبله؟ قال: لا، قال: أفیأخذ بیده ویصافحه؟ قال: نعم “ ۔ (۱۰۱/۲، باب المصافحة)

اوپر تک سکرول کریں۔