کیا صرف عورتوں کی شہادت سے نکاح درست ہوجائے گا؟

مسئلہ:

آج کل مرد وعورت میں مساواتِ حقوق، یعنی حقوق کی برابری کا نعرہ دے کر بعض مغربی فکر سے سوچنے والے ، اور اس کی نظر سے دیکھنے والے نام نہاد مجتہدین کہیں عورتوں کی امامت اور اس کی خطابت کو جائز قرار دے رہے ہیں، تو کہیں جمعہ کی نماز بجائے جمعہ کے دن ادا کرنے کے اتوار کے دن پڑھنے کی ترغیب وتلقین کررہے ہیں کہ وہ چھٹی کا دن ہوتا ہے، اسی طرح وہ صرف عورتوں کی شہادت سے نکاح کے جائز ہونے کی بات کو بھی عام کررہے ہیں، جب کہ اسلام نے مرد وعورت دونوں کی خلقت وپیدائش کی اغراض الگ الگ بیان کی ہے،(۱) اور اسی لحاظ سے انہیں حقوق عطا کئے، اور ذمہ داریاں بھی سونپی ہیں، مگر مغرب ، اسلام دشمنی میں نئے نئے ہتھکنڈے اپناکر، پر فریب الفاظ کا نعرہ دے کر، اسلامی تعلیمات اور اس کی خصائص میں خلل اندازی کی پوری کوشش کررہا ہے، اس لئے اگر کسی نکاح میں صرف عورتیں ہی شاہد ہوں، خواہ وہ چار عورتیں ہی کیوں نہ ہوں، نکاح صحیح نہیں ہوگا، جب تک کہ دو مرد یا ایک مرد اور دوعورتیں نہ ہوں ۔(۲)

الحجة علی ما قلنا :

(۱) ما فی ” نور الأنوار لملا جیون “ : والغرض من خلقة الرجل هو کونه نبیاً وإماماً، وشاهداً فی الحدود والقصاص، ومقیماً للجمعة والأعیاد ونحوه، والغرض من المرأة کونها مستفرشة آتیة بالولد، مدبرة لحوائج البیت وغیر ذلک۔ (ص:۱۸، مبحث الخاص)

(۲) ما فی ” القرآن الکریم “ : ﴿واستشهدوا شهیدین من رِّجالکم، فإن لم یکونا رجلین فرجلٌ وامرأتان مِمَّن تَرضونَ من الشهداء﴾ ۔ (سورة البقرة : ۲۸۲)

ما فی ” الهدایة “ : ولا ینعقد نکاح المسلمین إلا بحضور شاهدین حرین عاقلین بالغین مسلمین رجلین، أو رجل وامرأتین۔ (۳۰۶/۲، کتاب النکاح)

ما فی ” الفقه الإسلامی وأدلته “ : شرط عند الجمهور بأن یکون الشاهدان رجلین، فلا یصح الزواج بشهادة النساء وحدهنّ۔ (۶۵۶۳/۹، کتاب النکاح)

ما فی ” الفتاوی الهندیة “ : ولا ینعقد بشهادة المرأتین بغیر رجل۔(۲۶۷/۱۔۲۶۸، کتاب النکاح، الباب الأول)

ما فی ” الدر المختار “ : ونصابها لغیرها من الحقوق، سواء کان الحق مالاً أو غیره کنکاح وطلاق ووکالة ووصیة واستهلال صبی، رجلان أو رجل أو امرأتان، ولم یقبل شهادة أربع بلارجل لئلا یکثر خروجهن۔ (۹۷/۱۱۔۹۸، کتاب الشهادة)

ما فی ” البحر الرائق “ : (ولغیرها رجلان أو رجل وامرأتان) للآیة أطلقه فشمل المال وغیره کالنکاح والطلاق ۔۔۔۔۔۔ وإنما لا تقبل شهادة الأربع من غیر رجل لئلا یکثر خروجهن۔(۱۰۴/۷، کتاب الشهادة)

(فتاوی محمودیه: ۱۶۶/۱۷)

اوپر تک سکرول کریں۔